کراچی: کلکٹریٹ آف کسٹمز ایئرپورٹ کراچی نے دو کمپنیوں کے ذریعے تقریباً 3.2 ارب روپے کی درآمدات سے متعلق تحقیقات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے۔ پاکستان ٹوڈے کے کاروباری جریدے پروفٹ اور بزنس ریکارڈر کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں ادارے بظاہر کاغذی کمپنیاں تھیں اور ان کے شناختی و کسٹمز اکاؤنٹس متعدد غیر ظاہر شدہ درآمد کنندگان کے لیے 'مارکیٹ آئی ڈیز' کے طور پر استعمال ہوتے رہے۔
رپورٹس کے مطابق معاملہ ایسے انٹرنیٹ روٹرز کی جانچ سے شروع ہوا جو لازمی پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی سرٹیفکیشن کے بغیر درآمد کیے گئے تھے۔ کسٹمز نے 10 گڈز ڈیکلریشنز میں 71,815 روٹرز کی نشاندہی کی۔ بعد ازاں ضبط شدہ سامان سے متعلق مقدمات اور مالکانہ دعووں کی جانچ نے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ متعلقہ کمپنیوں کے رجسٹرڈ پتے اور کاروباری حیثیت ان کے بڑے درآمدی حجم سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ ایک کمپنی کا پتہ مبینہ طور پر چاول اور آٹے کی دکان نکلا، جبکہ دوسری ایک کرائے کے رہائشی مکان پر رجسٹرڈ تھی۔ رپورٹ کے مطابق ایک ادارہ ایف بی آر میں 'سروس پرووائیڈر / جنرل آرڈر سپلائر' کے طور پر رجسٹرڈ تھا، نہ کہ باقاعدہ درآمد کنندہ۔ یہ تمام نکات ابھی تحقیقاتی الزامات ہیں اور کسی عدالت نے ان پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں کمپنیوں کے وی بوک یوزر آئی ڈیز ہزاروں مختلف انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریسز سے استعمال ہوئے اور 1,048 آئی پی ایڈریسز دونوں کے درمیان مشترک پائے گئے۔ تفتیش کاروں نے اس پیٹرن کو اس شبہے کی بنیاد بنایا کہ ایک ہی شناخت کے تحت متعدد غیر ظاہر شدہ آپریٹرز درآمدی سرگرمیاں کر رہے تھے۔
کسٹمز کے مطابق زیر جانچ درآمدات میں بعض اشیا کی اعلان کردہ مالیت میں مجموعی طور پر 1.3 ارب روپے اضافہ کیا گیا۔ صرف روٹرز کے ایک معاملے میں 97 ملین روپے کی اعلان کردہ مالیت کو 565 ملین روپے تک دوبارہ جانچا گیا۔ تحقیقاتی رپورٹ نے اس فرق کو ممکنہ انڈر انوائسنگ کا اشارہ قرار دیا، تاہم متعلقہ کمپنیوں یا افراد کے مؤقف اور کسی حتمی قانونی کارروائی کی مکمل تفصیل عوامی طور پر سامنے نہیں آئی۔
کلکٹریٹ نے سفارش کی ہے کہ مشتبہ تجارتی بنیاد پر منی لانڈرنگ اور اصل فائدہ اٹھانے والوں کی شناخت کے لیے کسٹمز، ان لینڈ ریونیو اور ممکنہ طور پر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قائم کی جائے۔ وی بوک اکاؤنٹس کی معطلی یا منسوخی اور انکم ٹیکس و سیلز ٹیکس سے متعلق مزید کارروائی کی تجاویز بھی رپورٹ میں شامل ہیں۔ کسی شخص یا کمپنی کو مجرم قرار دینا صرف متعلقہ قانونی اور عدالتی عمل کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

