اسلام آباد: وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے اعلان کیا ہے کہ سکھر سے حیدرآباد تک ایم 6 موٹروے پر تعمیراتی کام نومبر 2026 میں شروع کیا جائے گا۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر مواصلات نے 4 اکتوبر کو اپنے بیان میں کہا کہ منصوبہ سندھ سمیت ملک بھر میں تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کو نئی رفتار دینے میں مدد دے گا۔
ایم 6 موٹروے کی مجوزہ لمبائی 306 کلومیٹر ہے اور یہ پاکستان کے شمالی و جنوبی موٹروے نیٹ ورک کے درمیان ایک اہم رابطہ سمجھی جاتی ہے۔ عبدالعلیم خان کے مطابق اس منصوبے سے علاقائی رابطہ مضبوط ہوگا اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ تاہم جاری بیان میں تعمیر مکمل ہونے کی حتمی تاریخ یا منصوبے کی تازہ مجموعی لاگت کی تفصیل نہیں دی گئی۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے منصوبے کے لیے زمین کے حصول کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق موٹروے کے راستے کے لیے ساڑھے سات ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین درکار تھی اور زمین مالکان کو تقریباً 15.26 ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ زمین کا حصول مکمل ہونا منصوبے کے عملی تعمیراتی مرحلے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سکھر حیدرآباد موٹروے طویل عرصے سے قومی شاہراہ اور موٹروے منصوبہ بندی کا اہم حصہ رہی ہے، کیونکہ حیدرآباد سے سکھر کے درمیان موٹروے معیار کا براہ راست رابطہ نہ ہونے کے باعث کراچی اور ملک کے بالائی حصوں کے درمیان مال برداری اور مسافر ٹریفک کے لیے یہ حصہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ نئی تعمیر سے سفر کے وقت اور لاجسٹکس کے اخراجات میں کمی کی توقع ظاہر کی جاتی رہی ہے، لیکن اس کے حقیقی اثرات منصوبے کی تکمیل اور آپریشن کے بعد ہی ناپے جا سکیں گے۔
وزیر مواصلات نے منصوبے کو معاشی نمو اور علاقائی رابطے کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ سرکاری اعلان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نومبر میں کام پورے 306 کلومیٹر روٹ پر بیک وقت شروع ہوگا یا مختلف پیکیجز میں مرحلہ وار پیش رفت کی جائے گی۔ اسی طرح مالی انتظام، ٹھیکوں اور تعمیراتی شیڈول کی مکمل تفصیلات بھی اس بیان میں شامل نہیں تھیں۔
منصوبے پر عملی پیش رفت کے لیے زمین کے حصول کے بعد تعمیراتی سرگرمی کا آغاز اگلا بنیادی مرحلہ ہوگا۔ حکام کے مطابق ایم 6 مکمل ہونے پر سندھ میں موٹروے نیٹ ورک کے اہم خلا کو پُر کرنے اور ملک گیر تجارتی رابطے بہتر بنانے میں کردار ادا کرے گی۔
