ڈیٹرائٹ: ڈیموکریٹ امیدوار عبدال السید نے مشی گن کی امریکی سینیٹ نشست جیت کر امریکا کی سیاسی تاریخ میں نیا باب رقم کردیا ہے۔ امریکی میڈیا نیٹ ورکس کے مطابق انہوں نے سابق ریپبلکن قانون ساز مائیک راجرز کو شکست دی اور امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن گئے۔ ڈان میں شائع اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نتیجہ سامنے آنے پر عبدال السید نے ڈیٹرائٹ میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کامیابی کو مشی گن کے ووٹرز کی جیت قرار دیا۔

42 سالہ عبدال السید طبی اور انتظامی شعبے کا پس منظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے انتخابی مہم میں صحت عامہ کے نظام، عام شہریوں کے طبی اخراجات، سیاست میں بڑے مالی مفادات کے اثر اور معاشی دباؤ جیسے موضوعات کو مرکزی حیثیت دی۔ امریکی نیٹ ورکس نے جب مقابلے کا نتیجہ ان کے حق میں قرار دیا تو انہیں مائیک راجرز پر تقریباً چھ پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔

یہ نشست ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز کی ریٹائرمنٹ کے بعد خالی ہوئی تھی۔ عبدال السید نے پہلے ڈیموکریٹک پرائمری جیتی، تاہم مہم کے آخری مرحلے میں اسی پرائمری میں شکست کھانے والی رکن کانگریس ہیلی اسٹیونز نے ریپبلکن امیدوار راجرز کی حمایت کردی تھی۔ اس سیاسی پیش رفت کے باوجود عبدال السید نے ریاست میں اپنی انتخابی برتری برقرار رکھی۔

رپورٹ کے مطابق ان کی مہم کو منظم مزدور تنظیموں، ترقی پسند گروپوں اور نوجوان ووٹرز کی حمایت حاصل رہی۔ انتخابی مہم کے دوران ان کے مذہبی پس منظر اور عربی نام کو نشانہ بناتے ہوئے اسلاموفوبک حملے بھی کیے گئے۔ عبدال السید نے اپنی فتح کے بعد نائب صدر جے ڈی وینس کو مخاطب کرتے ہوئے یاد دلایا کہ آئینی طریقہ کار کے تحت جنوری میں انہیں حلف دلایا جائے گا۔

عبدال السید کی کامیابی 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی وسیع تر کامیابی کا حصہ ہے، جس میں پارٹی نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں کا کنٹرول حاصل کیا۔ ان کا انتخاب مذہبی نمائندگی کے لحاظ سے تاریخی ہے، جبکہ عملی طور پر وہ جنوری میں نئی کانگریس کے آغاز کے ساتھ مشی گن کی نمائندگی سنبھالیں گے۔