یروشلم: اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی نے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی جانب سے عرب اکثریتی جماعتوں سے متعلق انتخابی دھاندلی کے الزامات مسترد کردیے ہیں۔ ڈان میں شائع اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے شکایات کے بعد 9,069 پولنگ اسٹیشنوں کا آڈٹ کیا اور کہا کہ دستیاب نتائج ووٹرز کی مرضی کی درست عکاسی کرتے ہیں۔
کمیٹی کے بیان کے مطابق سیاسی جماعتوں کی جانب سے جمع کرائی گئی تمام شکایات کا جائزہ لیا گیا، لیکن ایسا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا جس سے انتخابی عمل کی سالمیت متاثر ہونے کی نشاندہی ہو۔ نیتن یاہو نے عرب جماعتوں سے متعلق بے ضابطگیوں کے الزامات دہرائے تھے اور انتخابی دن نقد رقم کے لفافوں کے ساتھ بعض افراد کی گرفتاریوں کا حوالہ دیا تھا۔ انہوں نے بعض قانون سازوں پر قطر سے مالی فائدہ حاصل کرنے کے الزامات بھی لگائے، تاہم ان دعوؤں پر حتمی عدالتی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
اسرائیلی اٹارنی جنرل گالی بہاراو میارا نے کہا ہے کہ ثبوت کے بغیر کسی سے پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی۔ یہ بیان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ داخلی سلامتی ادارے شن بیٹ کے سربراہ نے عرب جماعتوں سے تفتیش کی خواہش ظاہر کی ہے۔ نیتن یاہو کی لیکود جماعت نے اٹارنی جنرل کے مؤقف پر تنقید کی، جبکہ ان کے حریف گاڈی آئزینکوٹ نے انتخابی دھاندلی کے بیانیے کو جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
صدر اسحاق ہرزوگ کو 27 اکتوبر کے انتخابات کے سرکاری نتائج موصول ہونے کے بعد سیاسی جماعتوں سے مشاورت شروع کرنا ہے تاکہ فیصلہ کیا جا سکے کہ حکومت بنانے کا پہلا موقع نیتن یاہو کو دیا جائے یا آئزینکوٹ کو۔ 120 رکنی پارلیمان میں کسی بھی فریق کے پاس 61 نشستوں کی واضح اکثریت نہیں۔ نیتن یاہو کے بلاک کے پاس 53 جبکہ آئزینکوٹ کے حامی بلاک کے پاس 48 نشستیں بتائی گئی ہیں۔ عرب جماعتوں کی 19 نشستیں ممکنہ حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں۔
صدر کی جانب سے نامزد رہنما کو حکومت بنانے کے لیے ابتدائی طور پر 28 دن ملیں گے، جن میں 14 دن کی توسیع ممکن ہے۔ اگر پہلا امیدوار ناکام رہا تو کسی دوسرے رکن کو موقع دیا جاسکتا ہے۔ اس لیے انتخابی کمیشن کا آڈٹ دھاندلی کے الزامات پر ادارہ جاتی مؤقف واضح کرتا ہے، مگر اسرائیل میں حکومت سازی کا سیاسی تعطل ابھی ختم نہیں ہوا۔
