دی ہیگ: اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت، عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے)، میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوجی کریک ڈاؤن سے متعلق نسل کشی کے مقدمے کا فیصلہ 19 نومبر کو سنائے گی۔ ڈان میں شائع اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق عدالت کے جج گزشتہ سات برس سے گیمبیا کی ان شکایات کا جائزہ لے رہے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ میانمار نے 1948 کے اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کی۔
یہ مقدمہ میانمار کی فوجی کارروائیوں اور ان کے نتیجے میں روہنگیا آبادی پر پڑنے والے اثرات سے متعلق ہے۔ لاکھوں روہنگیا میانمار سے نقل مکانی کرکے بنگلہ دیش پہنچے، جہاں اب دس لاکھ سے زیادہ روہنگیا پناہ گزین آباد ہیں۔ گیمبیا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ روہنگیا برادری کو منظم طور پر تباہی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ میانمار نے نسل کشی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی کارروائیاں مسلح باغیوں کے حملوں کے جواب میں کی گئی تھیں۔
آئی سی جے نے 2020 میں عبوری حکم جاری کرتے ہوئے میانمار کو ہدایت دی تھی کہ وہ نسل کشی کنونشن میں بیان کردہ ممنوعہ اقدامات کی روک تھام کے لیے اپنے اختیار میں موجود تمام اقدامات کرے۔ عدالت نے بعد میں میانمار کی جانب سے دائر دائرۂ اختیار سے متعلق اعتراض بھی مسترد کردیا تھا اور قرار دیا تھا کہ وہ نسل کشی کے بنیادی سوال پر فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔
جنوری میں ہونے والی سماعتوں میں گیمبیا کے وزیر انصاف داؤدا جالو نے روہنگیا کے خلاف شدید تشدد کے الزامات عدالت کے سامنے رکھے۔ میانمار کے نمائندوں نے جواب میں ان الزامات کو غیر ثابت شدہ قرار دیا اور کہا کہ قانونی فیصلے کے لیے سخت ثبوت درکار ہیں۔ سابق رہنما آنگ سان سوچی نے 2019 میں اسی مقدمے کی ایک سماعت میں نسل کشی کی نیت کے الزام کی تردید کی تھی۔
19 نومبر کا فیصلہ اس مقدمے میں ایک اہم قانونی مرحلہ ہوگا۔ آئی سی جے ریاستوں کے درمیان تنازعات کا فیصلہ کرتی ہے، اگرچہ اس کے پاس اپنے فیصلوں کو خود نافذ کرنے کا کوئی الگ نفاذی نظام نہیں۔ میانمار کے خلاف نسل کشی کا حتمی عدالتی نتیجہ بین الاقوامی دباؤ اور روہنگیا بحران سے متعلق آئندہ سفارتی و قانونی اقدامات پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
