واشنگٹن: امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈان میں شائع رائٹرز اور اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹس نے متعدد ایسی نشستیں بھی جیتیں جو طویل عرصے سے ریپبلکن پارٹی کے مضبوط حلقے سمجھے جاتے تھے۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹس نے کینساس اور آئیووا سمیت کئی ریپبلکن نشستیں اپنے نام کیں۔ کینساس میں ایڈم ہیملٹن نے ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کو شکست دی، جبکہ آئیووا میں بھی ڈیموکریٹ امیدوار کی کامیابی نے پارٹی کو اکثریت کے لیے درکار نشستیں فراہم کرنے میں مدد دی۔ انتخابات سے پہلے سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کو 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کی برتری حاصل تھی۔

ایوان نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس نے مختلف ریاستوں میں ریپبلکن حلقے پلٹ دیے۔ انڈیانا، پنسلوانیا، نیو جرسی، کینٹکی، ایریزونا اور شمالی کیرولائنا سمیت کئی مقامات پر نتائج نے پارٹی کی قومی سطح پر مضبوط کارکردگی کی نشاندہی کی۔ بعض حلقے ایسے تھے جہاں 2024 کے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کو واضح برتری حاصل ہوئی تھی۔

نتائج کے بعد ڈیموکریٹس کو صدر کی قانون سازی روکنے، انتظامیہ کے اقدامات پر کانگریسی تحقیقات شروع کرنے اور سینیٹ میں عدالتی و اعلیٰ سرکاری تقرریوں کی منظوری پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت حاصل ہوگی۔ صدر ٹرمپ نے نتائج تسلیم کرنے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ کام کرنے کی آمادگی ظاہر کی، تاہم انہوں نے ویٹو کے اختیار کے استعمال کا اشارہ بھی دیا۔

رپورٹ کے مطابق ووٹرز کے اہم خدشات میں مہنگائی، روزمرہ اخراجات، محصولات اور ایران کے ساتھ جنگ کے معاشی اثرات شامل تھے۔ کچھ انتخابی مقابلوں کے مکمل اعداد ابھی مرتب ہو رہے تھے، لیکن بڑے امریکی میڈیا اداروں کی پروجیکشنز نے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹک کنٹرول کی تصدیق کردی۔ نئی کانگریس جنوری میں حلف اٹھائے گی اور اس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو منقسم حکومت کے ماحول میں اپنے باقی دو سال مکمل کرنا ہوں گے۔