سیئول: جنوبی کوریا کی فوج نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے بدھ کو اپنے مشرقی ساحل کی جانب متعدد میزائل داغے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب پیانگ یانگ نے امریکی حکام کے اس الزام کو مسترد کیا کہ شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے چھ ارب ڈالر سے زیادہ کے اثاثوں کی چوری میں ملوث تھے۔

جنوبی کوریا کے فوجی حکام کے مطابق میزائل مشرقی پانیوں کی سمت فائر کیے گئے اور سیئول اور واشنگٹن ان کی نوعیت، فاصلے اور پرواز سے متعلق تفصیلات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ابتدائی اطلاع میں میزائلوں کی درست تعداد یا ماڈل کے بارے میں مکمل تفصیل جاری نہیں کی گئی، اس لیے ان کی تکنیکی صلاحیت کے بارے میں غیر سرکاری اندازوں کو تصدیق شدہ معلومات نہیں سمجھا جا سکتا۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے اس الزام کی تردید کی کہ ٹریڈر ٹریٹر نامی شمالی کوریائی گروپ بائنانس ہیک کے پیچھے تھا۔ انہوں نے امریکی الزام کو واشنگٹن کی مبینہ دشمنانہ پالیسی کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ پیانگ یانگ کو امریکا کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت نظر نہیں آتی۔

امریکی حکام نے کرپٹو چوری کے معاملے میں شمالی کوریا سے منسلک سائبر گروپ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے، تاہم پیانگ یانگ اس نسبت کو مسترد کرتا ہے۔ اس رپورٹ میں ہیک سے متعلق ذمہ داری کو امریکی حکام کا الزام اور شمالی کوریا کے جواب کو اس کی سرکاری تردید کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔

میزائل لانچ ایسے ماحول میں ہوئے ہیں جب جزیرہ نما کوریا میں فوجی اور سیاسی کشیدگی بلند سطح پر ہے۔ حالیہ عرصے میں شمالی کوریا نے مختلف ہتھیاروں کے تجربات کیے ہیں جبکہ جنوبی کوریا اور امریکا دفاعی تیاری اور نگرانی بڑھا رہے ہیں۔ سرحدی علاقے میں بارودی سرنگوں کے دھماکوں سے جنوبی کوریا کے تین فوجیوں کے زخمی ہونے کے بعد بھی دونوں کوریاؤں کے درمیان الزامات کا تبادلہ ہوا ہے، جس میں شمالی کوریا نے ذمہ داری سے انکار کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ سفارت کاری بحال کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، لیکن کم یو جونگ کے تازہ بیان سے فوری مذاکرات کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔ میزائل لانچوں کی مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ کسی مخصوص نئے نظام کا تجربہ تھا یا سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے موجودہ صلاحیت کا مظاہرہ۔