دی ہیگ: اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت، عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے)، میانمار کے خلاف روہنگیا مسلم اقلیت سے متعلق نسل کشی کے مقدمے کا فیصلہ 19 نومبر کو سنائے گی۔ عدالت گزشتہ سات برس سے گیمبیا کی جانب سے دائر اس مقدمے کی سماعت کر رہی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ میانمار کی روہنگیا آبادی کے خلاف فوجی کارروائیوں نے 1948 کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کی۔

یہ مقدمہ ریاستوں کے درمیان قانونی تنازعات سننے والی آئی سی جے میں زیر سماعت ہے۔ گیمبیا نے نسل کشی کنونشن کے تحت مقدمہ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ روہنگیا کے خلاف ہونے والے تشدد اور جبری بے دخلی کے واقعات ایسے جرائم پر مشتمل ہیں جن کے بارے میں کنونشن کے رکن ممالک عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ میانمار مسلسل نسل کشی کے الزام سے انکار کرتا آیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائیاں باغی حملوں کے ردعمل میں کی گئی تھیں۔

2017 کی فوجی کارروائی کے بعد لاکھوں روہنگیا ہمسایہ بنگلہ دیش منتقل ہوئے۔ پناہ گزینوں اور انسانی حقوق کے اداروں نے قتل، جنسی تشدد اور آبادیوں کی تباہی سمیت سنگین الزامات رپورٹ کیے۔ میانمار نے ان الزامات کے بعض پہلوؤں اور بالخصوص نسل کشی کی نیت کے دعوے کو مسترد کیا ہے۔ عدالت کا آنے والا فیصلہ اسی قانونی سوال پر اہم نتیجہ فراہم کرے گا کہ آیا ثابت شدہ کارروائیاں نسل کشی کنونشن کے معیار پر پوری اترتی ہیں۔

آئی سی جے نے 2020 میں عبوری اقدامات کا حکم دیتے ہوئے میانمار سے کہا تھا کہ وہ کنونشن میں بیان کردہ ممنوع افعال کی روک تھام کے لیے اپنے اختیار میں موجود اقدامات کرے۔ بعد میں عدالت نے میانمار کی دائرہ اختیار سے متعلق اعتراضات بھی مسترد کیے اور مقدمے کی مکمل سماعت جاری رکھی۔ جنوری 2026 کی سماعتوں میں گیمبیا نے اپنے الزامات کی قانونی اور واقعاتی بنیاد پیش کی جبکہ میانمار نے انہیں غیر ثابت شدہ قرار دیا۔

یہ واضح رہنا ضروری ہے کہ 19 نومبر کا فیصلہ ابھی آیا نہیں ہے؛ موجودہ پیش رفت صرف فیصلے کی تاریخ کے اعلان سے متعلق ہے۔ اس لیے میانمار کے خلاف نسل کشی کا حتمی عدالتی نتیجہ پیشگی فرض نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ گیمبیا کے دعووں پر آئی سی جے نے کیا قانونی نتیجہ اخذ کیا ہے۔

اس مقدمے کی بین الاقوامی اہمیت روہنگیا بحران سے آگے بھی ہے۔ قانونی ماہرین اس فیصلے کو نسل کشی کنونشن کی تشریح اور ریاستی ذمہ داری کے حوالے سے قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ آئی سی جے میں جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف غزہ سے متعلق الگ نسل کشی مقدمہ بھی زیر سماعت ہے، اس لیے میانمار کیس میں عدالت کی قانونی تشریح دوسرے بین الاقوامی مقدمات کے مباحث میں بھی توجہ حاصل کر سکتی ہے۔

میانمار کی فوجی قیادت کے خلاف روہنگیا سے متعلق دیگر قانونی کارروائیاں بھی مختلف فورمز پر جاری ہیں۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے 2024 میں من آنگ ہلینگ کے خلاف مبینہ انسانیت کے خلاف جرائم کے سلسلے میں وارنٹ گرفتاری کی درخواست کی تھی، جبکہ ارجنٹائن میں عالمی دائرہ اختیار کے اصول کے تحت الگ کارروائی بھی سامنے آ چکی ہے۔ یہ تمام عمل الگ قانونی فورمز اور مختلف قانونی معیارات کے تحت چل رہے ہیں۔