دی ہیگ: عالمی عدالت انصاف میں میانمار کے خلاف روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی سے متعلق مقدمے میں اہم سماعت ہوئی ہے۔ یہ مقدمہ گیمبیا نے نسل کشی کی روک تھام اور سزا سے متعلق 1948 کے کنونشن کے تحت دائر کیا تھا اور اس میں میانمار پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس کی سکیورٹی فورسز نے روہنگیا آبادی کے خلاف ایسی کارروائیاں کیں جو نسل کشی کے دائرے میں آتی ہیں۔ میانمار ان الزامات کی قانونی تعبیر سے اختلاف کرتا رہا ہے۔

مقدمے کا پس منظر 2017 میں میانمار کی ریاست راکھین میں فوجی کارروائی سے جڑا ہے، جس کے نتیجے میں سات لاکھ سے زیادہ روہنگیا سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش پہنچے۔ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے قتل، جنسی تشدد، دیہات جلانے اور جبری نقل مکانی سے متعلق سنگین الزامات رپورٹ کیے تھے۔ میانمار کی جانب سے ماضی میں کہا گیا کہ اس کی کارروائیاں مسلح گروہوں کے حملوں کے جواب میں انسداد دہشت گردی آپریشن تھیں، تاہم عالمی سطح پر ان کارروائیوں کی نوعیت اور تناسب پر شدید سوالات اٹھائے گئے۔

گیمبیا نے 2019 میں عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے 2020 میں عبوری اقدامات جاری کرتے ہوئے میانمار کو روہنگیا کے خلاف نسل کشی کنونشن کے تحت ممنوعہ کارروائیوں کی روک تھام اور متعلقہ شواہد محفوظ رکھنے کے اقدامات کا حکم دیا تھا۔ بعد میں عدالت نے میانمار کے ابتدائی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

تازہ کارروائی میں متعدد ممالک نے نسل کشی کنونشن کی متعلقہ دفعات کی تشریح کے بارے میں اپنے قانونی مؤقف پیش کیے ہیں۔ اس نوعیت کی مداخلت کا مطلب یہ نہیں کہ عدالت نے میانمار کے خلاف نسل کشی کا حتمی فیصلہ دے دیا ہے۔ اصل مقدمے میں ذمہ داری کا تعین شواہد، فریقین کے دلائل اور کنونشن کے قانونی معیار کی بنیاد پر عدالت کے حتمی فیصلے میں ہوگا۔

روہنگیا بحران بدستور خطے کا بڑا انسانی مسئلہ ہے۔ بنگلہ دیش میں بڑی تعداد میں پناہ گزین کیمپوں میں مقیم روہنگیا افراد کی محفوظ، رضاکارانہ اور باعزت واپسی کے لیے حالات پر طویل عرصے سے اختلاف موجود ہے۔ میانمار میں داخلی تنازع اور سیاسی عدم استحکام نے بھی واپسی کے امکانات کو پیچیدہ بنایا ہے۔

عالمی عدالت انصاف ریاستوں کے درمیان قانونی تنازعات کا فیصلہ کرتی ہے اور اس مقدمے میں میانمار کی بطور ریاست ذمہ داری زیر بحث ہے۔ یہ کارروائی بین الاقوامی فوجداری عدالت یا کسی فرد کے خلاف فوجداری مقدمے سے الگ ہے۔ موجودہ سماعتیں قانونی دلائل کے عمل کا حصہ ہیں؛ کسی حتمی نتیجے یا ذمہ داری کے تعین کو عدالت کے آئندہ فیصلے سے پہلے ثابت شدہ نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔