نیویارک: مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے ڈیٹا سینٹرز کو مسلسل اور قابلِ اعتماد بجلی فراہم کرنے کی ضرورت نے امریکا میں فیول سیل ٹیکنالوجی کی مانگ میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق توانائی تحقیقاتی ادارے رائسٹڈ انرجی کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کے لیے فیول سیلز میں سرمایہ کاری 2025 کے 2.8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2030 تک تقریباً 30 ارب ڈالر ہو سکتی ہے۔
ڈیٹا سینٹرز میں کمپیوٹنگ آلات اور کولنگ نظام چوبیس گھنٹے چلتے ہیں، جس کے لیے بڑی مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے۔ رائسٹڈ کے مطابق امریکا میں بعض بڑے نئے لوڈز کو بجلی کے گرڈ سے جوڑنے میں تین سے چھ سال لگ سکتے ہیں۔ یہی تاخیر ڈیٹا سینٹر ڈویلپرز کو موقع پر بجلی پیدا کرنے والے متبادل ذرائع کی جانب لے جا رہی ہے۔ ادارے کا اندازہ ہے کہ 2030 تک امریکا میں متوقع ڈیٹا سینٹر صلاحیت کا تقریباً 40 فیصد حصہ مکمل طور پر گرڈ پر انحصار کرنے کے بجائے مخصوص آن سائٹ بجلی کے ذرائع تلاش کر سکتا ہے۔
فیول سیل قدرتی گیس یا ہائیڈروجن جیسے ایندھن اور آکسیجن کے درمیان کیمیائی عمل کے ذریعے براہ راست بجلی پیدا کرتا ہے۔ اس عمل میں روایتی گیس ٹربائن کی طرح ایندھن جلانے کی ضرورت نہیں ہوتی، جس کے باعث مقامی اخراج نسبتاً کم ہو سکتا ہے۔ بلوم انرجی سالڈ آکسائیڈ فیول سیل بناتی ہے جو خالص ہائیڈروجن پر بھی چل سکتے ہیں، جبکہ فیول سیل انرجی مولٹن کاربونیٹ ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہے۔
بلوم انرجی نے اپنی تیسری سہ ماہی کی آمدن میں 138 فیصد اضافے کے بعد 1.24 ارب ڈالر آمدن رپورٹ کی اور 2026 کے لیے آمدن کی پیش گوئی بڑھا کر 4.4 سے 4.6 ارب ڈالر کر دی۔ اوریکل نے بلوم سے 2.8 گیگاواٹ تک فیول سیل سسٹمز حاصل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جن میں 1.2 گیگاواٹ کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ فیول سیل انرجی کے سربراہ جیسن فیو کے مطابق بجلی حاصل کرنے کا وقت اب بجلی کی لاگت جتنا اہم بنتا جا رہا ہے، اور کمپنی کو توقع ہے کہ دو سے تین سال میں ڈیٹا سینٹرز اور متعلقہ کاروبار اس کی سرگرمیوں کا 75 سے 85 فیصد بن سکتے ہیں۔
تاہم صنعت کی تیز توسیع کے سامنے پیداواری صلاحیت، اجازت ناموں، سائٹ کی تیاری، گیس کنکشن، ٹرانسفارمر اور سوئچ گیئر جیسے بنیادی ڈھانچے کی رکاوٹیں موجود ہیں۔ رائسٹڈ کے مطابق فیول سیل بنانے کی سالانہ عالمی صلاحیت موجودہ تقریباً 1.8 گیگاواٹ سے بڑھ کر 2030 تک 4 گیگاواٹ ہو سکتی ہے۔ اس لیے اے آئی انفراسٹرکچر کی بجلی کی مانگ فیول سیلز کے لیے بڑا موقع پیدا کر رہی ہے، لیکن اس موقع کو عملی منصوبوں میں بدلنے کے لیے مینوفیکچرنگ اور توانائی انفراسٹرکچر دونوں میں تیز سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

