ٹوکیو: جاپان نے اعلان کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے سائبر حملوں کی مشق کرنے اور سرکاری و نجی ٹیکنالوجی نظاموں میں کمزوریاں تلاش کرنے کے لیے ایک خصوصی ٹیم قائم کرے گا۔ یہ فیصلہ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی پروگرامنگ زبان PHP میں سنگین سکیورٹی خامیوں کے انکشاف اور دنیا کے مختلف حصوں میں آن لائن خدمات کے عارضی تعطل کے بعد سامنے آیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق PHP کی خامیوں کے منظر عام پر آنے کے بعد لاکھوں مشتبہ ہیکنگ کوششیں رپورٹ ہوئیں اور ویب سائٹ منتظمین نے سکیورٹی پیچ نافذ کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے۔ جاپان اور یورپ میں بینکاری، فضائی سفر، ریلوے، ٹیکس اور بعض سرکاری آن لائن خدمات کو احتیاطاً عارضی طور پر روکا گیا تاکہ کمزور نظاموں کو محفوظ کیا جا سکے۔
جاپان کی بڑی موبائل کمپنی SoftBank نے بھی PHP سے متعلق خطرے کے باعث اپنے موبائل صارفین کے لیے ایمرجنسی الرٹ سسٹم عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا۔ اس نظام کے ذریعے زلزلے، سونامی، آفات اور انخلا سے متعلق انتباہات بھیجے جاتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق صارفین متبادل خدمات، جن میں اس کے Yahoo کاروبار کی ایپ بھی شامل ہے، کے ذریعے زلزلے کی وارننگ حاصل کر سکتے ہیں۔
جاپانی وزیر صنعت ریوسی اکازاوا نے کہا کہ سائبر دفاع میں حملہ آور کے نقطہ نظر سے سوچنا ضروری ہے کیونکہ کسی نظام میں ایک کمزوری بھی حملے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق دفاعی اداروں کو بھی اے آئی استعمال کرتے ہوئے پیشگی تیاری اور کمزوریوں کی فعال تلاش کرنی چاہیے۔ جاپانی سائبر سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی حملہ آوروں کے لیے کمزوریوں کی اسکیننگ، فشنگ اور دیگر کارروائیوں کو تیز اور کم خرچ بنا رہی ہے۔
PHP کے ڈویلپرز نے متاثرہ ورژنز کے لیے سکیورٹی اصلاحات جاری کرتے ہوئے صارفین اور اداروں کو فوری اپ ڈیٹ کی ہدایت کی ہے۔ جاپانی حکام کی نئی مجوزہ ٹیم کا مقصد صرف حملوں کے بعد ردعمل دینا نہیں بلکہ فرضی حملوں کے ذریعے پہلے سے ممکنہ راستے شناخت کرنا ہے، تاکہ اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر حقیقی حملے سے پہلے کمزوریاں دور کی جا سکیں۔

