کیف: یوکرین کے وزیراعظم سرگئی کوریٹسکی نے کہا ہے کہ روس ملک کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو تقریباً اسی شدت سے نشانہ بنا رہا ہے جس طرح توانائی کے نظام پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ ماہ صرف دارالحکومت کیف میں 10 ڈیٹا سینٹرز حملوں کی زد میں آئے، جبکہ سرکاری معلوماتی نظاموں اور کاروباری اداروں کے خلاف مصنوعی ذہانت سے معاونت یافتہ سائبر حملوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
کوریٹسکی نے سرکاری اداروں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اپنی سائبر سکیورٹی ٹیمیں قائم یا مضبوط کریں۔ ان کے مطابق یوکرین کے اہم ڈیجیٹل ادارے پہلے ہی بعض حملوں کو روکنے کے لیے اے آئی استعمال کر رہے ہیں اور یہی سطح کی تیاری تمام سرکاری محکموں اور اداروں میں درکار ہے۔ ان کا بیان ایسے وقت آیا ہے جب یوکرین موسم سرما سے پہلے توانائی، مواصلات اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کی کوشش کر رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق روسی افواج نے حالیہ مہینوں میں یوکرین کے لاجسٹک نیٹ ورکس، کاروباری تنصیبات اور ڈیٹا سینٹرز پر حملوں کا دائرہ بڑھایا ہے۔ توانائی کے نظام پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ ڈیجیٹل تنصیبات کو نشانہ بنانا حکومت، کاروبار اور شہری خدمات کے تسلسل کے لیے اضافی خطرہ پیدا کرتا ہے۔ ماسکو نے کوریٹسکی کے تازہ دعوؤں پر فوری طور پر الگ تفصیلی ردعمل نہیں دیا۔
یوکرین نے بھی روسی توانائی تنصیبات کے ساتھ بعض ای کامرس اہداف پر حملوں کا دائرہ بڑھایا ہے۔ دونوں ممالک کی جنگ میں سائبر کارروائیاں، مواصلاتی نظام اور ڈیٹا تک رسائی روایتی میدان جنگ کے ساتھ اہم محاذ بن چکے ہیں۔ یوکرین کو روسی بیلسٹک میزائلوں اور تیز رفتار ڈرونز کے خلاف فضائی دفاعی ہتھیاروں کی کمی کا بھی سامنا ہے۔
اس کے علاوہ امریکی Starshield سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس تک یوکرین کی رسائی پر حالیہ پابندیوں نے بعض دفاعی اور میدان جنگ کی صلاحیتوں پر اثر ڈالا ہے۔ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پر بڑھتے حملے اس خطرے کو نمایاں کرتے ہیں کہ جدید جنگ میں بجلی گھروں اور نقل و حمل کے نظام کے ساتھ ڈیٹا سینٹرز، سرکاری نیٹ ورکس اور مواصلاتی خدمات بھی براہ راست اسٹریٹجک اہداف بن سکتے ہیں۔

