مصنوعی ذہانت کے ذریعے سافٹ ویئر کی کمزوریاں تلاش کرنے کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور سائبر سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس رجحان سے انٹرنیٹ خدمات میں مزید خلل اور ہنگامی سکیورٹی ردعمل کی ضرورت پیدا ہو سکتی ہے۔ رائٹرز سے گفتگو کرنے والے سات سائبر ماہرین نے کہا کہ اے آئی نہ صرف خامیاں تلاش کرنے کا عمل تیز کر رہی ہے بلکہ ممکنہ حملہ آوروں کے لیے ان خامیوں کو قابلِ استعمال طریقوں میں بدلنے کا وقت بھی کم کر سکتی ہے۔
امریکی تھریٹ انٹیلی جنس کمپنی VulnCheck کی تحقیق کے مطابق ایک سال میں دریافت ہونے والی ڈیجیٹل خامیوں کی تعداد تقریباً دوگنی ہوئی ہے اور اس اضافے میں اے آئی کا کردار بھی شامل ہے۔ حالیہ دنوں میں PHP، Node.js اور Plex سمیت وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے سافٹ ویئر میں کمزوریاں سامنے آئیں، جبکہ LiteLLM اور Railway سے متعلق سکیورٹی واقعات نے بھی تشویش میں اضافہ کیا۔
PHP کی بعض سنگین خامیوں کے انکشاف کے بعد یورپ اور دیگر خطوں میں سرکاری اور کاروباری ویب سائٹس کے منتظمین نے ہنگامی طور پر سکیورٹی اپ ڈیٹس نافذ کیں۔ کچھ اداروں نے اس خدشے کے باعث اپنی آن لائن خدمات عارضی طور پر بند کر دیں کہ حملہ آور پیچ لگنے سے پہلے کمزوریوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سائبر ماہرین کے مطابق روایتی طور پر کسی پیچیدہ خامی کی دریافت اور اس کے لیے عملی exploit تیار کرنے میں ہفتے یا مہینے لگ سکتے تھے، مگر جدید اے آئی نظام یہ دورانیہ نمایاں طور پر گھٹا سکتے ہیں۔
Cloudflare کے چیف ایگزیکٹو میتھیو پرنس نے رائٹرز کو بتایا کہ اہم سافٹ ویئر میں مزید شدید خامیوں کے بارے میں معلومات سامنے آ رہی ہیں اور آئندہ عرصے میں سکیورٹی ٹیموں کو بار بار ہنگامی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم ماہرین اس بات پر متفق نہیں کہ زیادہ خامیوں کی دریافت لازماً زیادہ کامیاب حملوں میں تبدیل ہوگی۔ بعض اے آئی سے دریافت شدہ کمزوریاں تکنیکی طور پر مشکل ہوتی ہیں اور ان کا عملی استحصال آسان نہیں ہوتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قلیل مدت میں خطرات بڑھ سکتے ہیں، لیکن طویل مدت میں مسلسل جانچ اور خامیوں کی جلد شناخت سافٹ ویئر کو زیادہ محفوظ بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ بنیادی چیلنج یہ ہے کہ سافٹ ویئر فراہم کرنے والے اور ادارے دریافت، پیچ اور نگرانی کے عمل کو اسی رفتار سے بہتر بنائیں جس رفتار سے اے آئی کمزوریاں سامنے لا رہی ہے۔

