کراچی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کہا ہے کہ اس نے کراچی میں ایک کم عمر لڑکی کا سراغ لگا کر بروقت مداخلت کی جو ایک مبینہ ڈارک ویب گروپ کے زیر اثر خطرناک سرگرمیوں کی طرف جا رہی تھی۔ این سی سی آئی اے کراچی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز کے مطابق کارروائی ایک غیر ملکی جرائم تحقیقاتی ادارے سے ملنے والی اطلاع کے بعد شروع کی گئی، جس کا نام انہوں نے ظاہر نہیں کیا۔

حکام کے مطابق غیر ملکی ادارے نے ایک ای میل کے ذریعے معلومات فراہم کیں، جس کے بعد این سی سی آئی اے نے متعلقہ انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریس کا سراغ لگایا۔ طارق نواز نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ لڑکی پہلے سوشل میڈیا کے ذریعے گروپ کے مواد سے متعارف ہوئی اور بعد میں ایک میسجنگ ایپلی کیشن پر اس سے رابطے میں رہی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسے مختلف نوعیت کے کام دیے جا رہے تھے، جن میں نقصان دہ سرگرمیاں بھی شامل تھیں۔

این سی سی آئی اے کے مطابق ادارے نے اس مرحلے پر لڑکی تک رسائی حاصل کی جب ایک مزید خطرناک کام کی طرف پیش رفت کا خدشہ تھا۔ اس کے زیر استعمال ڈیجیٹل آلات کو تجزیے کے لیے تحویل میں لیا گیا ہے۔ حکام نے کہا کہ تحقیقات کا دائرہ اس بات تک بڑھایا جا رہا ہے کہ آیا ملک میں مزید افراد بھی اسی یا ملتے جلتے آن لائن نیٹ ورک سے متاثر ہوئے ہیں اور اس سرگرمی کے پیچھے کون لوگ موجود ہیں۔

لڑکی کے والدین نے حکام کو بتایا کہ گزشتہ تین سے چار ماہ کے دوران اس کے رویے میں تبدیلی آئی تھی اور وہ پریشان رہتی تھی، تاہم گھر والوں کے پوچھنے پر اپنی مشکلات کی تفصیل نہیں بتاتی تھی۔ این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ اسے نفسیاتی مشاورت بھی فراہم کی گئی ہے۔ چونکہ تحقیقات ابھی جاری ہیں، اس لیے مبینہ گروپ کی شناخت، اس کے ارکان اور ممکنہ دیگر متاثرین کے بارے میں حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

یہ کیس آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے کم عمر صارفین تک نقصان دہ مواد اور نامعلوم گروپس کی رسائی کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ این سی سی آئی اے نے رواں ماہ ایک دوسرے نوجوان سے متعلق کیس میں بھی غیر ملکی ادارے سے اطلاع ملنے کے بعد کارروائی کی تھی۔ تازہ معاملے میں حکام نے کسی فرد پر حتمی جرم ثابت ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور کہا ہے کہ ڈیجیٹل شواہد کا معائنہ اور ممکنہ ذمہ داروں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔