نیویارک: مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ نے کمپیوٹنگ چپس، بجلی، ڈیٹا سینٹرز اور نیٹ ورکنگ کے بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری کو تاریخی سطحوں تک پہنچا دیا ہے، تاہم اس غیر معمولی خرچ کے مقابلے میں وسیع پیمانے پر پیداواری فوائد اور مالی منافع کی رفتار اب بھی بحث کا موضوع ہے۔ رائٹرز کے ایک تفصیلی تجزیے کے مطابق موجودہ اے آئی سرمایہ کاری بعض سابقہ ٹیکنالوجی بومز، جن میں ریل روڈ اور انٹرنیٹ انفراسٹرکچر شامل ہیں، کے حجم سے بھی آگے بڑھ سکتی ہے۔

PwC کے تخمینے کے مطابق عالمی ڈیٹا سینٹرز پر مجموعی خرچ 2050 تک 30 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور اے آئی ماڈل تیار کرنے والے ادارے اگلی نسل کے ماڈلز کے لیے کمپیوٹنگ صلاحیت بڑھانے پر سینکڑوں ارب ڈالر کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ اس سرمایہ کاری میں سرورز، جدید چپس، بجلی کی فراہمی، کولنگ، زمین اور نیٹ ورک کنکشن شامل ہیں۔

اے آئی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی سافٹ ویئر، تحقیق، صحت، صنعت اور دفتری کام میں پیداواری صلاحیت بڑھا سکتی ہے اور نئے کاروباری ماڈل پیدا کرے گی۔ تاہم ماہرین اقتصادیات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وسیع معیشت میں قابل پیمائش پیداواری فائدے ابھی محدود اور غیر یکساں ہیں۔ تاریخی طور پر بھی بڑی ٹیکنالوجی تبدیلیوں میں انفراسٹرکچر پہلے بنتا ہے جبکہ مکمل معاشی فوائد کئی سال یا دہائیاں بعد سامنے آتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق امریکی کمپنیاں عالمی اے آئی سرمایہ کاری میں نمایاں حصہ رکھتی ہیں اور انہیں آئندہ برسوں میں اتنی آمدن پیدا کرنا ہوگی جو بڑے پیمانے کے سرمائے کے خرچ کو جواز دے سکے۔ اگر صارفین اور کاروبار اے آئی خدمات پر متوقع رفتار سے خرچ نہ کریں تو سرمایہ کاروں کو منافع کے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف، اگر اے آئی واقعی تحقیق، کوڈنگ اور خودکار کاموں میں بڑی چھلانگ پیدا کرتی ہے تو موجودہ انفراسٹرکچر طویل مدت میں قیمتی ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی لیے موجودہ بحث صرف یہ نہیں کہ اے آئی مفید ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ مالی منافع کتنی جلدی آئے گا، فائدہ کن شعبوں میں تقسیم ہوگا اور موجودہ سرمایہ کاری کا کتنا حصہ پائیدار کاروباری قدر میں تبدیل ہو سکے گا۔