نیویارک: Amazon نے امریکا اور دیگر مقامات پر اپنے بڑے ڈیٹا سینٹرز کی میزبانی کرنے والی مقامی آبادیوں میں اگلے پانچ سال کے دوران ایک ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق رقم تعلیم، ملازمت کی تربیت، پانی اور توانائی کے تحفظ اور مقامی ترجیحات سے متعلق منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔
Amazon Web Services کے چیف ایگزیکٹو میٹ گارمن نے کمپنی کے بلاگ میں کہا کہ گزشتہ تین سال کے دوران بھی ڈیٹا سینٹرز والے علاقوں میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیا جا چکا ہے۔ نئی سرمایہ کاری ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے لیے بڑے ڈیٹا سینٹرز کی تیز تعمیر پر بجلی، پانی، زمین اور مقامی انفراسٹرکچر کے استعمال سے متعلق عوامی سوالات بڑھ رہے ہیں۔
گارمن نے یہ بھی کہا کہ Amazon اب سرکاری اداروں کے ساتھ ڈیٹا سینٹر منصوبوں میں نان ڈسکلوزر ایگریمنٹس استعمال نہیں کرے گا اور مقامی کمیونٹیز کے لیے اوپن ہاؤسز اور معلوماتی پروگرام بڑھائے جائیں گے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کے ماحولیاتی اور توانائی کے اثرات کے بارے میں بعض دعوے مبالغہ آمیز یا غلط ہوتے ہیں اور زیادہ شفافیت سے مقامی خدشات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ بڑے ڈیٹا سینٹرز بعض علاقوں میں چھوٹے شہروں کے برابر بجلی استعمال کر سکتے ہیں اور کولنگ کے لیے پانی کی بڑی مقدار درکار ہو سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی کمپیوٹنگ ضروریات نے ان مسائل کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ امریکا کے مختلف حصوں میں نئے ڈیٹا سینٹر منصوبوں پر عارضی پابندی یا سخت شرائط کی تجاویز زیر غور ہیں۔
گارمن نے خبردار کیا کہ وسیع پابندیاں امریکا کی مصنوعی ذہانت میں مسابقتی پوزیشن کو متاثر کر سکتی ہیں۔ کمپنی کی نئی سرمایہ کاری بنیادی طور پر مقامی فائدے اور قبولیت بڑھانے کی کوشش ہے، لیکن یہ بحث برقرار ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کے معاشی فوائد، روزگار، بجلی کے نرخ، پانی کے استعمال اور ماحولیاتی لاگت کے درمیان توازن کس طرح قائم کیا جائے۔ اعلان کردہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم پانچ سال کے عرصے میں مختلف میزبان کمیونٹیز پر خرچ کی جائے گی۔

