عمان: ایف بی آئی ملازمین کے حساس ڈیٹا کی مبینہ چوری کے معاملے میں سائبر بھتہ خوری سے منسلک گروپ ShinyHunters کے ایک مشتبہ رکن کو اردن میں حراست میں لیا گیا ہے۔ رائٹرز نے معاملے سے واقف تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ سیف الدین خضر کو اردنی حکام نے حراست میں لیا اور وہ امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق خضر، جسے آن لائن عرف ’’Rey‘‘ سے بھی منسلک کیا جاتا ہے، تفتیش کاروں کو اپنے الیکٹرانک آلات اور ڈیجیٹل رابطوں تک رسائی دے رہا ہے تاکہ گروپ کے دیگر مبینہ ارکان کی شناخت اور تلاش میں مدد مل سکے۔ رائٹرز آزادانہ طور پر اس کی حراست کے تمام حالات یا موجودہ مقام کی تصدیق نہیں کر سکا، جبکہ خضر اور اس کے اہل خانہ سے رابطے کی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہوئیں۔

ایف بی آئی نے کسی مخصوص بیرون ملک گرفتاری یا کارروائی کی تصدیق سے گریز کیا، تاہم ادارے نے کہا کہ ShinyHunters سے مبینہ طور پر منسلک حالیہ سائبر واقعے کی تحقیقات جارحانہ انداز میں جاری ہیں اور شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر متعدد مشتبہ افراد کی گرفتاری پر کام کیا گیا ہے۔ اس بیان سے خضر کے بارے میں ذرائع کے دعوے کی براہ راست سرکاری تصدیق نہیں ہوتی۔

ShinyHunters نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایف بی آئی کے تمام ملازمین سے متعلق بڑے پیمانے پر ڈیٹا حاصل کیا ہے۔ رائٹرز نے اس گروپ کی جانب سے شیئر کیے گئے ڈیٹا کے ایک نمونے کا جائزہ لیا اور بتایا کہ اس میں ذاتی شناختی معلومات، ملازمت سے متعلق حساس تفصیلات اور طبی و نفسیاتی نوعیت کی معلومات شامل تھیں۔ اس نوعیت کا ڈیٹا متاثرہ افراد کے لیے شناختی فراڈ، ہدفی دھوکا دہی اور دیگر سکیورٹی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں گروپ کی آن لائن سرگرمی میں خلل کے آثار بھی دیکھے گئے۔ اس کا وہ اکاؤنٹ، جس کے ذریعے صحافیوں سے رابطہ کیا جاتا تھا، ناقابل رسائی ہوا اور بعد میں اس کی ڈارک ویب سائٹ بھی غائب ہو گئی۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سرکاری طور پر واضح نہیں کی گئی۔ خضر پر الزامات یا اس کے ممکنہ تعاون سے متعلق معلومات ذرائع پر مبنی ہیں؛ کسی عدالت کی جانب سے اس معاملے میں جرم ثابت ہونے کی اطلاع اس رپورٹ میں شامل نہیں۔