اسلام آباد: جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں افغانستان کی جانب سے ہونے والے حملے میں ایک شہری جاں بحق جبکہ ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوگئے، جس کے بعد پاکستانی مسلح افواج نے سرحد پار متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ جیو نیوز نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ افغان طالبان فورسز نے پاکستان افغانستان سرحد کے قریب شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج نے حملے کے بعد فوری جوابی کارروائی کی اور سرحد پار متعدد افغان طالبان چوکیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے بعد بھی پاکستانی دستے ہائی الرٹ ہیں اور کسی مزید حملے کی صورت میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ واقعے کے بارے میں دستیاب معلومات بنیادی طور پر پاکستانی سکیورٹی ذرائع سے منسوب ہیں؛ آزاد ذرائع سے نقصان اور جوابی کارروائی کی مکمل تفصیلات کی فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
انگور اڈہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حساس سرحدی مقامات میں شمار ہوتا ہے اور حالیہ مہینوں میں یہاں سرحد پار فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق اپریل کے آخر میں بھی سرحد پار مارٹر گولہ باری سے شہری زخمی ہوئے اور گھروں کو نقصان پہنچا تھا، جس کے بعد پاکستانی فورسز نے دوسری جانب موجود ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ تازہ واقعہ اسی کشیدہ سرحدی ماحول میں پیش آیا ہے۔
اسلام آباد طویل عرصے سے کابل میں قائم افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کرتا آیا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف مسلح حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ افغان حکام ماضی میں ایسے پاکستانی الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ اس لیے تازہ واقعے کے سیاسی اور سکیورٹی اثرات کا تعین دونوں ملکوں کے سرکاری ردعمل اور سرحدی صورتحال میں آئندہ پیش رفت سے ہوگا۔
فی الحال سب سے اہم تصدیق شدہ انسانی پہلو ایک شہری کی ہلاکت اور پانچ افراد کے زخمی ہونے کی پاکستانی ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاع ہے۔ سرحد پار نقصان کے اعداد یا فوجی اہداف سے متعلق دعوؤں کو متعلقہ فریق کے بیان کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے جب تک آزاد یا دوسرے سرکاری ذرائع مزید تفصیل فراہم نہ کریں۔
