اسلام آباد: پاکستان اور چین نے دوطرفہ معلوماتی، میڈیا اور ثقافتی روابط کو منظم انداز میں وسعت دینے کے لیے چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور (CPIC) کا آغاز کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے مطابق نئے پلیٹ فارم کے تحت تعاون کو چار بنیادی ستونوں—میڈیا، کاروبار و ادارے، تھنک ٹینکس، اور ثقافت و سیاحت—پر استوار کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان حکومتی اور اقتصادی تعلقات کے ساتھ عوامی سطح کے رابطوں اور معلومات کے تبادلے کو بھی مضبوط بنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق انفارمیشن کوریڈور کا مقصد صحافتی اداروں، تحقیقی مراکز اور کاروباری حلقوں کے درمیان براہ راست روابط بڑھانا ہے تاکہ دونوں ملکوں میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں معلومات زیادہ تیزی اور باقاعدگی سے شیئر کی جا سکیں۔

حکومت نے اس اقدام کو چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق معلومات اور وسیع تر دوطرفہ تعاون کے تناظر میں بھی پیش کیا ہے۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل دور میں غلط یا گمراہ کن معلومات دونوں ممالک کے تعلقات اور ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں عوامی فہم کو متاثر کر سکتی ہیں، اس لیے میڈیا اداروں کے درمیان تعاون اور حقائق تک رسائی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے صحافیوں اور میڈیا تنظیموں کے تبادلوں کو بڑھانے پر بھی زور دیا۔

نئے کوریڈور میں کاروباری اداروں کی شمولیت کا مقصد اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری سے متعلق معلومات کے بہاؤ کو بہتر بنانا ہے، جبکہ تھنک ٹینکس کے درمیان روابط پالیسی تحقیق اور علمی تبادلے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ ثقافت اور سیاحت کے ستون کے ذریعے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطے، ثقافتی پروگرام اور سیاحتی تعاون بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

پاکستان اور چین پہلے ہی سی پیک کے تحت توانائی، انفراسٹرکچر، صنعت اور دیگر شعبوں میں متعدد منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ CPIC اس اقتصادی فریم ورک کا متبادل نہیں بلکہ معلوماتی اور عوامی رابطے کے لیے ایک الگ تعاون کا پلیٹ فارم ہے۔ اس کے عملی منصوبوں، بجٹ اور مخصوص ادارہ جاتی ذمہ داریوں کی مکمل تفصیلات مرحلہ وار سامنے آنے کی توقع ہے، اس لیے موجودہ اعلان کو پلیٹ فارم کے باضابطہ آغاز اور اس کے چار بنیادی شعبوں کی تعیین تک محدود سمجھا جائے گا۔