اسلام آباد: وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی نے ملک میں جاری فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ وسیع کرنے اور پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی کے لیے قابل عمل تجاویز تیار کرنے کی غرض سے مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران کیا گیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق کمیٹی میں حکومت اور جماعت اسلامی کے تین تین نمائندے شامل ہوں گے۔ حکومتی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے لیاقت بلوچ، سید فراست شاہ اور نصراللہ رندھاوا کی شمولیت بتائی گئی ہے۔
کمیٹی کو دو بنیادی امور پر حتمی سفارشات تیار کرنا ہوں گی۔ پہلا کام موجودہ پیٹرول ریلیف اسکیم کا دائرہ اس طرح بڑھانے کی تجاویز دینا ہے کہ زیادہ مستحق افراد اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ دوسرا کام آئندہ بجٹ کے لیے پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی کی مالی طور پر قابل عمل تجاویز مرتب کرنا ہے۔
حکومت کے مطابق کم آمدن والے طبقے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کے کوٹے اور سبسڈی کی اسکیم میں اب تک ایک کروڑ 27 لاکھ افراد رجسٹر ہو چکے ہیں۔ موٹر سائیکل، رکشا اور 800 سی سی تک گاڑی رکھنے والوں کے لیے یہ ریلیف اسکیم 17 ستمبر کو ملک بھر میں شروع کی گئی تھی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث عالمی تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں اور محدود مالی گنجائش کے اندر ہدفی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے ملاقات کے بعد کہا کہ دونوں فریق ریلیف کا دائرہ بڑھانے پر متفق ہیں لیکن طریقہ کار پر اختلاف موجود ہے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے جبکہ حکومت اسے مرحلہ وار کم کرنے کی بات کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر نومبر کے وسط تک بڑا ریلیف پیکج سامنے نہ آیا تو جماعت اسلامی اسلام آباد مارچ کرے گی۔
احسن اقبال نے کہا کہ حکومت عوامی مشکلات کم کرنا چاہتی ہے لیکن ایسا طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے جو مالی طور پر پائیدار ہو۔ رانا ثناء اللہ نے بھی سبسڈی کو زیادہ ہدفی بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ زیادہ فائدہ ان افراد تک پہنچے جو واقعی اس کے مستحق ہیں۔
مشترکہ کمیٹی کا قیام کسی فوری لیوی خاتمے یا نئے ریلیف پیکج کی حتمی منظوری نہیں ہے۔ حتمی مالی اثر، سبسڈی کی نئی اہلیت اور پیٹرولیم لیوی میں ممکنہ کمی کمیٹی کی سفارشات اور بعد کی حکومتی منظوری کے بعد واضح ہو گی۔
