اسلام آباد: وزارت انسانی حقوق، لیگل ایڈ سوسائٹی اور اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے اشتراک سے ریپ مقدمات کی سماعت کرنے والے صنفی تشدد کی عدالتوں کے ججز کے لیے ایک عملی بینچ بک جاری کر دی گئی ہے۔ تقریب میں صنفی بنیاد پر تشدد کے مقدمات میں کم سزا کی شرح کے اسباب پر تیار کیا گیا قومی مطالعہ بھی پیش کیا گیا، جس میں رپورٹ درج ہونے سے لے کر تفتیش، طبی قانونی معائنے، استغاثہ اور عدالتی کارروائی تک مختلف مراحل کا جائزہ لیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جسٹس عائشہ ملک نے تقریب سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے جنسی تشدد کے متاثرین کو مورد الزام ٹھہرانے والے رویوں پر تنقید کی۔ انہوں نے اس تصور کو چیلنج کیا کہ خواتین اپنے طرز عمل سے جنسی زیادتی کو دعوت دیتی ہیں اور کہا کہ ایسے مفروضوں کو بنیادی طور پر دوبارہ جانچنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنسی تشدد کے واقعات معمول بن جانے کا خطرہ یہ ہے کہ معاشرے میں ان پر مطلوبہ سطح کا ردعمل اور تشویش کم ہو سکتی ہے۔
وزارت انسانی حقوق کے مطابق بینچ بک کا مقصد ججز کو منصفانہ ٹرائل اور قانون و دستیاب شواہد کی بنیاد پر فیصلوں میں عملی حوالہ فراہم کرنا ہے۔ دس ابواب پر مشتمل دستاویز عدالتی کارروائی کی ترتیب کے مطابق متعلقہ قوانین اور اعلیٰ عدالتوں کی عدالتی رہنمائی کو یکجا کرتی ہے تاکہ مقدمے کے مختلف مراحل میں پیش کیے جانے والے شواہد کا قانونی تناظر میں جائزہ لیا جا سکے۔
قومی مطالعہ وزارت انسانی حقوق اور سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے تعاون سے تیار کیا گیا۔ چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر جنرل ربیعہ ہادی نے مطالعے کے نتائج پیش کرتے ہوئے ان مراحل کی نشاندہی کی جہاں مقدمات کمزور پڑ سکتے ہیں۔ لیگل ایڈ سوسائٹی کی ایڈووکیٹ ملیحہ ضیا نے بینچ بک کی ساخت اور عدالتی کارروائی میں اس کے مجوزہ استعمال کی وضاحت کی۔
اینٹی ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) ایکٹ 2021 سے متعلق خصوصی کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے قانون کے عملی اطلاق پر گفتگو کی، جبکہ لیگل ایڈ سوسائٹی کی چیف ایگزیکٹو حیا ایمان زاہد نے متاثرہ فرد کے عدالتی سفر میں تاخیر سے رپورٹنگ، طبی شواہد میں خلا اور خاندانی طاقت کے تعلقات جیسے عوامل کو درست سیاق میں دیکھنے کی ضرورت اجاگر کی۔ UNFPA پاکستان کے نمائندے ڈاکٹر لوئے شبانہ نے منصفانہ عدالتی فیصلوں کو پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں سے جوڑا۔
بینچ بک خود کوئی نیا قانون یا عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ موجودہ قانون اور عدالتی نظائر کو عملی حوالہ کی شکل میں منظم کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے اجرا کا مقصد صنفی تشدد کے مقدمات میں عدالتی عمل کو زیادہ یکساں، شواہد پر مبنی اور متاثرہ افراد کے حقوق سے ہم آہنگ بنانے میں مدد دینا ہے۔
