اسلام آباد: وفاقی وزارت ہاؤسنگ و تعمیرات نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت ہاؤسنگ فنانس حاصل کرنے والوں کے لیے بینکوں کی جانب سے مانگی جانے والی لازمی پراپرٹی دستاویزات کی تعداد کم کرکے پانچ کر دی گئی ہے۔ وزارت کے مطابق یہ تقاضے ملک بھر میں معیاری بنائے گئے ہیں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے متعلقہ بینکوں کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔
وزارت کے بیان کے مطابق اپنا گھر پروگرام پہلی مرتبہ گھر بنانے یا خریدنے کے خواہش مند اہل افراد کے لیے قومی سطح کی ہاؤسنگ قرض اسکیم ہے، جس کے تحت حکومت 10 ملین روپے تک فنانسنگ کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ درخواست گزاروں کی جانب سے بینکوں کے زیادہ اور مختلف نوعیت کے کاغذات طلب کرنے کی شکایات سامنے آنے کے بعد دستاویزی تقاضوں کو سادہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
نئے معیاری تقاضوں میں منتقلی اور قبضے سے متعلق خط، سائٹ پلان، رہن کی اجازت سے متعلق خط اور رہن کی رجسٹریشن سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ پانچ لازمی دستاویزات کا یکساں نظام مختلف اقسام کی جائیداد رکھنے والے درخواست گزاروں کے لیے قرض تک رسائی آسان بنانے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔
وزارت کی جانب سے میڈیا کے ساتھ شیئر کی گئی تفصیلات کے مطابق اہل جائیدادوں میں شہری ترقیاتی اداروں کی پراپرٹیز، ہاؤسنگ سوسائٹیز اور نجی اسکیمیں، شہری ریونیو یا فری ہولڈ پراپرٹی، بعض پرانے ریکارڈ والی املاک، ڈی ایچ اے کے پلاٹس، مکانات اور اپارٹمنٹس، کنٹونمنٹ و ملٹری اسٹیٹ آفس کی لیز ہولڈ پراپرٹیز، دیہی ریونیو پراپرٹی، سرکاری ہاؤسنگ اسکیمیں اور متروکہ وقف املاک کی بعض اقسام شامل ہو سکتی ہیں۔ عملی منظوری متعلقہ بینک اور اسکیم کے قواعد کے مطابق ہوگی۔
دستاویز کے مطابق پنجاب حکومت کے جاری کردہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ یا دیگر صوبوں کے مجاز اداروں کے مساوی سرٹیفکیٹ رکھنے والی جائیدادوں کے لیے بھی فنانسنگ ممکن ہو سکتی ہے۔ وزارت کا مؤقف ہے کہ ایسے سرٹیفکیٹس میں ملکیت، ٹائٹل اور قبضے کی جامع تصدیق ہونے کی صورت میں اضافی آبائی یا تاریخی ملکیتی دستاویزات پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
اس تبدیلی کا مقصد کاغذی کارروائی کم کرنا ہے، تاہم قرض کی حتمی منظوری خودکار نہیں ہوگی۔ درخواست گزار کو اہلیت، بینک کی کریڈٹ جانچ، جائیداد کی قانونی حیثیت اور پروگرام کی دیگر شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ اس لیے دستاویزات کی تعداد میں کمی کو قرض کی یقینی منظوری کے بجائے درخواست کے عمل کو آسان بنانے کی انتظامی اصلاح سمجھا جائے گا۔

