بیونس آئرس: ارجنٹائن کے صدر خاویر میلی ایک ایسا قانون سازی پیکج تیار کر رہے ہیں جس کا مقصد فاک لینڈ جزائر، جنہیں ارجنٹائن مالویناس کہتا ہے، میں کام کرنے والی یا وہاں کی بعض معاشی سرگرمیوں سے وابستہ کمپنیوں کے خلاف پابندیاں سخت کرنا ہے۔ رائٹرز کے مطابق مجوزہ بل اس ہفتے کانگریس کو بھیجے جانے کی تیاری میں ہے اور حکومت اسے قومی خودمختاری کے دفاع سے جوڑ رہی ہے۔ یہ ابھی منظور شدہ قانون نہیں، اس لیے اس کی حتمی زبان اور دائرۂ کار پارلیمانی عمل کے دوران تبدیل ہو سکتا ہے۔

کانگریس کے معاون مارسیلو سیگھینی نے رائٹرز کو بتایا کہ مجوزہ قانون غیر مجاز سرگرمیوں کے لیے موجودہ سزاؤں کو سخت کرے گا اور پابندیوں کا اطلاق ایسی کمپنیوں کے وابستہ اداروں تک بڑھانے کی گنجائش دے گا۔ ان کے مطابق قدرتی وسائل کو متاثر کرنے والی دیگر سرگرمیوں کو بھی قانون کے دائرے میں لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ارجنٹائن کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ جزائر کے اردگرد آف شور تیل کی تلاش سے منسلک کم از کم 60 کمپنیوں اور افراد کے خلاف کارروائی کے عمل کا آغاز کر چکی ہے، تاہم حکومت نے رائٹرز کو مکمل فہرست فراہم نہیں کی۔

حالیہ توجہ Sea Lion آف شور منصوبے پر مرکوز ہے، جس سے منسلک کمپنیوں کے خلاف گزشتہ ہفتے ایک فوجداری شکایت بھی دائر کی گئی۔ منصوبے کے مالکان Navitas Petroleum اور Rockhopper Exploration کا مؤقف ہے کہ ان کے پاس فاک لینڈ جزائر کی حکومت سے درست لائسنس موجود ہیں اور وہ ارجنٹائن کے اقدامات سے منصوبے کی پیش رفت رکنے کی توقع نہیں رکھتے۔ یہ کمپنیوں کا مؤقف ہے؛ ارجنٹائن ان سرگرمیوں کو اپنی خودمختاری اور قدرتی وسائل کے دعوے سے متصادم سمجھتا ہے۔

فاک لینڈ جزائر برطانیہ کے زیر انتظام ہیں جبکہ ارجنٹائن ان پر تاریخی خودمختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔ دونوں ممالک نے 1982 میں ان جزائر پر 10 ہفتے کی جنگ بھی لڑی تھی جس کے بعد برطانیہ نے اپنا کنٹرول برقرار رکھا۔ حالیہ سیاسی کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ماہ اشارہ دیا کہ واشنگٹن اس تنازع پر اپنی روایتی غیر جانب دار پوزیشن پر دوبارہ غور کر سکتا ہے۔ اس کے بعد ارجنٹائن نے تیل اور دیگر سرگرمیوں سے منسلک کمپنیوں پر قانونی و تجارتی دباؤ بڑھانے کی کوششیں تیز کی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق حکومت کے زیر جائزہ دستاویزات میں بعض شیئر ہولڈرز اور مالیاتی ثالث بھی ممکنہ پابندیوں کے دائرے میں نشان زد تھے۔ بڑی آئل سروس کمپنیوں SLB، Baker Hughes اور Halliburton نے حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ وہ جزائر میں سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گی۔ ایک کانگریسی معاون کے مطابق مجوزہ بل میں ماہی گیری کے شعبے تک پابندیاں بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جو جزائر کی معیشت کا اہم حصہ ہے۔

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پابندیوں کا دائرہ وسیع ہوا تو ایسی بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے قانونی اور سرمایہ کاری کے خطرات بڑھ سکتے ہیں جو ارجنٹائن میں بھی کاروبار کرتی ہیں۔ تاہم ابھی یہ طے نہیں کہ حتمی بل کن شعبوں، کمپنیوں یا وابستہ اداروں پر لاگو ہوگا۔ موجودہ پیش رفت ایک مجوزہ قانون اور جاری پابندی کارروائیوں سے متعلق ہے، نہ کہ کسی حتمی عدالتی فیصلے یا پارلیمان سے منظور شدہ نئی پابندی کا اعلان۔