اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری حاضر اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کو 2024 کے سکیورٹی روٹ کیس میں فی کس 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل میں قائم عدالت میں فیصلہ سنایا، جہاں مقدمے کی سماعت کی گئی تھی۔ عدالت نے دونوں پر جرمانے بھی عائد کیے اور سزا تین الگ قانونی دفعات کے تحت سنائی گئی۔

مقدمہ ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی روٹ میں مبینہ خلل اور عوامی بے امنی پر اکسانے کے الزامات سے متعلق تھا۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان نے سکیورٹی روٹ پر لگائی گئی رکاوٹیں ہٹائیں۔ ایمان مزاری اور ہادی علی نے ان الزامات سے انکار کیا تھا اور فردِ جرم عائد ہونے کے بعد مقدمے میں خود کو بے قصور قرار دیا تھا۔ فیصلے سے قبل وہ اس مقدمے میں ضمانت پر تھے۔

عدالتی کارروائی کے دوران ریاست کی جانب سے مقرر کردہ وکیل عاطف محمود نے گواہوں پر جرح کی جبکہ استغاثہ نے مجموعی طور پر سات گواہ پیش کیے۔ دونوں ملزمان نے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنے بیانات بھی ریکارڈ کرائے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ ان کے انسانی حقوق کے کام اور پسماندہ طبقات کو مفت قانونی معاونت فراہم کرنے کی سرگرمیوں کی وجہ سے انہیں نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ ان کا دفاعی مؤقف ہے، جبکہ ٹرائل کورٹ نے موجودہ مقدمے میں انہیں سزا سنائی ہے۔

جوڑے نے جیل ٹرائل اور مقدمے کے مختلف مراحل کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے منصفانہ سماعت، قانونی طریقۂ کار اور مؤثر دفاع کے حق سے متعلق اعتراضات اٹھائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ اس سے قبل فردِ جرم اور دہشت گردی سے متعلق دفعات شامل کرنے کے خلاف ان کی درخواستوں پر فریقین کو نوٹس جاری کر چکی ہے، جبکہ ٹرائل روکنے کی درخواست منظور نہیں کی گئی تھی۔

ایمان مزاری اور ہادی علی رواں سال جنوری سے مختلف مقدمات کے سلسلے میں زیرِ حراست رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ایک الگ مقدمے میں انہیں پہلے 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے ستمبر میں وہ سزائیں معطل کرتے ہوئے اپیلوں کے حتمی فیصلے تک رہائی کا حکم دیا تھا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد پولیس نے انہیں موجودہ سکیورٹی روٹ مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔

تازہ سزا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ ہے اور قانونی عمل ابھی مکمل نہیں ہوا، کیونکہ ملزمان کے پاس متعلقہ اعلیٰ عدالتوں میں اپیل اور دیگر قانونی چارہ جوئی کے راستے موجود ہیں۔ اس لیے موجودہ فیصلے کو حتمی عدالتی مرحلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مقدمہ شہری آزادیوں، انسداد دہشت گردی قوانین کے استعمال اور فوجداری مقدمات میں منصفانہ سماعت کے تقاضوں سے متعلق جاری قانونی بحث کا بھی حصہ بن چکا ہے۔