راولپنڈی: اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے اعتراض کے بعد ان کے لیے مقرر سرکاری وکیل تیمور جنجوعہ کو تبدیل کردیا ہے۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے عاطف محمود کو نیا سرکاری وکیل مقرر کیا، جبکہ مقدمے میں استغاثہ کے گواہوں کی جرح کے لیے سماعت اگلے روز تک ملتوی کردی گئی۔

جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل میں مقدمے کی سماعت کی۔ یہ کیس سکیورٹی رکاوٹیں ہٹانے اور سرکاری فرائض میں مبینہ مداخلت سے متعلق ہے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں مقرر کیے گئے سرکاری وکیل تیمور جنجوعہ پر اعتراض ہے اور ان کے اپنے وکلا موجود ہیں۔

سماعت کے دوران ہادی علی چٹھہ نے سابق سرکاری وکیل کے طرز عمل سے متعلق ایک الزام بھی عدالت کے سامنے رکھا۔ یہ دعویٰ ملزم فریق کی جانب سے کیا گیا اور دستیاب عدالتی رپورٹنگ میں اس کی آزادانہ تصدیق یا کسی حتمی عدالتی نتیجے کا ذکر نہیں ہے۔ جج نے عدالت میں وکیل کے طرز عمل پر ناراضی کا اظہار کیا اور بعد میں نئے سرکاری وکیل کی تقرری کردی۔

استغاثہ نے ابتدا میں نو گواہوں کی فہرست پیش کی تھی لیکن بعد میں دو گواہ واپس لے لیے گئے، جس کے بعد سات گواہ باقی رہے۔ ان تمام سات گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں اور مقدمہ اب جرح کے مرحلے میں ہے۔ جمعرات کی سماعت میں کسی گواہ پر جرح نہیں ہوسکی، جس پر عدالت نے انہیں دوبارہ جمعہ کو طلب کرلیا۔

عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو آگاہ کیا کہ اگر ان کے نجی وکلا آئندہ سماعت میں گواہوں پر جرح نہیں کرتے تو مقرر سرکاری وکیل یہ کارروائی انجام دے گا۔ مقدمے کی اگلی سماعت صبح نو بجے مقرر کی گئی ہے۔

اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی عدالت نے 7 اکتوبر کو دونوں ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی۔ الزام ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے دورے کے دوران مقررہ راستے سے متعلق سکیورٹی انتظامات میں خلل اور رکاوٹیں ہٹانے کا واقعہ پیش آیا۔ ملزمان نے عدالتی طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے ہیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا ہے۔

فرد جرم عائد ہونا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف الزامات کا حتمی فیصلہ شواہد، گواہوں کی جرح اور فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت کرے گی۔ تازہ حکم صرف سرکاری وکیل کی تبدیلی اور مقدمے کی کارروائی آگے بڑھانے سے متعلق ہے۔