سڈنی: آسٹریلیا کی مصنوعی ذہانت کے لیے کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر فراہم کرنے والی کمپنی فرمس ٹیکنالوجیز نے اپنی مجوزہ ابتدائی عوامی حصص فروخت، یعنی آئی پی او، آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ رائٹرز کی 9 اکتوبر کی رپورٹ اور مالیاتی جائزے کے مطابق اس اقدام نے اے آئی کے شعبے میں تیز رفتار توسیع کے لیے سرمایہ حاصل کرنے والی کمپنیوں کی قدر اور حقیقی کاروباری صلاحیت کے درمیان فاصلے پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
کمپنی کو اینویڈیا اور بلیک اسٹون جیسے بڑے سرمایہ کاروں کی حمایت حاصل رہی ہے۔ مجوزہ لسٹنگ کے سلسلے میں تقریباً 44 ارب آسٹریلوی ڈالر، یعنی 31 ارب امریکی ڈالر کے آس پاس، کی کمپنی قدر زیر بحث تھی۔ یہ اندازہ اس کے پہلے کے بعض سرمایہ کاری ادوار میں سامنے آنے والی قدروں سے نمایاں طور پر زیادہ تھا۔ تاہم مجوزہ قدر یا حصص فروخت کا منصوبہ خود اس قیمت پر کامیاب سرمایہ کاری یا مارکیٹ میں حتمی لسٹنگ کے برابر نہیں ہوتا۔
مالیاتی تجزیے میں سرمایہ کاروں کے خدشات کی کئی وجوہ بیان کی گئیں۔ ان میں بڑے پیمانے پر ڈیٹا سینٹر اور کمپیوٹنگ منصوبوں کے لیے بہت زیادہ ابتدائی سرمایہ، بلند عالمی شرح سود اور ممکنہ منافع کی آمد کے وقت سے متعلق غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی کی موجودہ عملی استعداد تقریباً 42 میگاواٹ بتائی گئی جبکہ اس سے کہیں زیادہ بڑے انفراسٹرکچر ہدف کی بات کی جا رہی تھی۔ ایسے فرق کے باعث سرمایہ کار مستقبل کے وعدوں کے ساتھ موجودہ کاروباری صلاحیت بھی جانچتے ہیں۔
فرمس کے منصوبوں میں بڑے ٹیکنالوجی صارفین کو کمپیوٹنگ وسائل فراہم کرنا اور ایشیائی منڈیوں میں موقع تلاش کرنا شامل رہا ہے۔ تاہم مصنوعی ذہانت کی خدمات کے لیے ڈیٹا سینٹرز کا کاروبار صرف مشینوں کی خریداری تک محدود نہیں؛ اس میں بجلی کی مسلسل فراہمی، تعمیرات، نیٹ ورک، زمین، مالی اعانت اور طویل مدتی صارف معاہدوں کے تقاضے بھی آتے ہیں۔ بڑے منصوبوں کے عملی آغاز میں تاخیر کاروباری ماڈل پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق وہ عوامی اور نجی ذرائع سے سرمایہ حاصل کرنے کے دوسرے راستے تلاش کر سکتی ہے۔ اس لیے آئی پی او کی واپسی کو کمپنی کے تمام منصوبوں کی بندش یا دیوالیہ ہونے کا اعلان نہیں سمجھنا چاہیے۔ واقعہ اے آئی انفراسٹرکچر کے شعبے میں سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی ایک نمایاں مثال ہے جہاں غیر معمولی مستقبل کی توقعات کے ساتھ حقیقی آمدن، منصوبوں کی تکمیل اور مالی خطرات کا جائزہ ضروری ہوتا جا رہا ہے۔
