پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اکتوبر کے دوسرے ہفتے کے دوران اتار چڑھاؤ کے بعد مجموعی طور پر مندی رہی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر 1066 پوائنٹس، یعنی تقریباً صفر اعشاریہ چھ فیصد، کم ہوکر 167089 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مارکیٹ کی رپورٹوں کے مطابق بین الاقوامی تیل کی بلند قیمتوں اور علاقائی سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ عملے کی سطح کے معاہدے سے پیدا ہونے والی مثبت توقعات کو محدود کردیا۔
ڈان کی 11 اکتوبر کی رپورٹ میں عارف حبیب لمیٹڈ کے حوالے سے بتایا گیا کہ سرمایہ کاروں کی توجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، اہم بحری راستوں کو لاحق خطرات اور عالمی توانائی کی رسد پر مرکوز رہی۔ اے کے ڈی سیکیورٹیز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنے سے بھی مارکیٹ کے اعتماد پر دباؤ پڑا۔ یہ تجزیہ مالیاتی اداروں کی جانب سے پیش کیا گیا ہے، کسی ایک عنصر کو بازار میں تمام کمی کا قطعی سبب قرار نہیں دیا جاسکتا۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت کے چوتھے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت کے تیسرے جائزے پر عملے کی سطح کا معاہدہ ہوا ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں تقریباً ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی ممکنہ ادائیگی کا راستہ کھل سکتا ہے، لیکن رقم کا اجرا آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔ اس لیے اسے پہلے سے موصول شدہ رقم نہیں سمجھنا چاہیے۔
اس دوران سرکاری بانڈز کی تازہ نیلامی میں بعض مدتوں کے منافع کی شرح 26 سے 41 بیسس پوائنٹس بڑھی، جس سے مستقبل میں شرح سود کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ ذخائر 2 اکتوبر تک تقریباً 21 ارب 50 کروڑ ڈالر رہے۔ مالیاتی صورتحال میں بہتری کے بعض اشاروں کے باوجود مہنگائی، تجارتی خسارے اور سود کی سمت سے متعلق غیر یقینی برقرار رہی۔
شعبہ وار اعدادوشمار کے مطابق بینکاری کمپنیوں کے حصص انڈیکس میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ کمی کا باعث بنے، جبکہ کھاد، آٹوموبائل، سیمنٹ اور ٹیکسٹائل شعبوں نے بھی دباؤ ڈالا۔ دوسری طرف آئل مارکیٹنگ اور بجلی کی بعض کمپنیوں نے مثبت حصہ ڈالا۔ کاروبار کا اوسط یومیہ حجم تقریباً اٹھارہ اعشاریہ چھ فیصد کم ہوکر 42 کروڑ 70 لاکھ حصص رہا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ کاروباری رجحان پر کمپنیوں کے سہ ماہی مالی نتائج، عالمی تیل کی قیمتیں اور خطے کے حالات اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ تاہم یہ مستقبل کے ممکنہ محرکات ہیں؛ کسی یقینی تیزی یا مندی کی پیش گوئی نہیں۔
