بینکاک: عالمی بینک کے صدر اجے بانگا نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے 30 سے 40 ملکوں کے ساتھ ممکنہ مالی معاونت پر تبادلہ خیال کر رہا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کو 11 اکتوبر کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ عالمی معیشت نے اب تک بعض دباؤ توقع سے بہتر انداز میں برداشت کیے ہیں، تاہم ترقی پذیر ممالک کے لیے آئندہ مہینوں میں مالی مشکلات بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی بینک نے جنگ شروع ہونے کے بعد ابتدائی طور پر 25 ارب ڈالر کے ہنگامی وسائل دستیاب کیے تھے۔ اجے بانگا کے مطابق اس رقم سے اب تک صرف محدود تعداد میں ملکوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مختلف حکومتیں نئے قرض لینے کے بجائے پہلے سے منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کے وسائل کو بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بینک کے مطابق ایسے موجودہ منصوبوں سے تقریباً 35 ارب ڈالر تک کے اضافی وسائل کو بھی متعلقہ مقاصد کے لیے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
صدر عالمی بینک نے بڑھتی ہوئی ڈیزل قیمتوں، کھاد کی لاگت اور ممکنہ شدید ال نینو موسمی رجحان کو خاص خطرات کے طور پر بیان کیا۔ ان کے مطابق کمزور معیشتیں پہلے ہی کورونا وبا کے بعد بڑھے ہوئے قرضوں اور بلند عالمی شرح سود کا بوجھ اٹھا رہی ہیں۔ سال 2026 میں ترقی پذیر ممالک کے بیرونی قرض دہندگان کو واجب الادا ادائیگیوں کا تخمینہ تقریباً 400 ارب ڈالر بتایا گیا ہے۔ یہ رقم ان ممالک کے لیے مالی گنجائش محدود کرنے والا اہم عنصر ہے۔
عالمی بینک کے صدر نے عندیہ دیا کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو ادارہ بحران سے نمٹنے کے لیے دستیاب مالی مدد میں مزید وسعت کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔ تاہم ممکنہ زیادہ سے زیادہ رقم اور کسی انفرادی ملک کو مدد کی منظوری ابھی پہلے سے طے شدہ قرضہ معاہدہ نہیں ہے۔ رائٹرز کے مطابق بینک نجی سرمائے کو ترقیاتی منصوبوں کی طرف لانے، چھوٹے کاروباروں کی مدد کرنے اور قرضوں کے دباؤ سے نکلنے کے لیے متبادل مالی انتظامات پر بھی کام کر رہا ہے۔
عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے بینکاک اجلاسوں کے موقع پر اس گفتگو کی اہمیت اس وجہ سے بڑھ گئی ہے کہ دنیا کے کئی ممالک کو بیک وقت مہنگی توانائی، مالیاتی خسارے اور قرضوں کی ادائیگی جیسے مسائل درپیش ہیں۔ اجے بانگا کا بیان ادارے کی موجودہ بات چیت اور ممکنہ پالیسی سمت واضح کرتا ہے، لیکن ان میں سے ہر ملک کے لیے فنڈ کی منظوری یا ادائیگی ابھی ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔
