اقوام متحدہ کے ادارے برائے تجارت و ترقی، انکٹاڈ، نے اپنی ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ رپورٹ 2026 میں عالمی معاشی رفتار سست پڑنے کی پیش گوئی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی اقتصادی شرح نمو 2025 کے 2.9 فیصد سے کم ہوکر 2026 میں 2.6 فیصد اور 2027 میں 2.7 فیصد ہوسکتی ہے۔ ترقی پذیر معیشتوں کی نمو میں بھی کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے اور اس کے لیے تقریباً چار فیصد کا تخمینہ دیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 4.7 فیصد تھی۔
ڈان کی 11 اکتوبر کی خبر کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صنعتی، تجارتی، مالیاتی اور ٹیکنالوجی سے متعلق حکومتی فیصلے اب معاشی اہداف کے ساتھ قومی سلامتی کی ترجیحات سے بھی تیزی سے جڑ رہے ہیں۔ ان پالیسیوں کے باعث بعض ممالک کو نئی سپلائی چینز میں جگہ مل سکتی ہے، لیکن دوسروں کے لیے عالمی منڈیوں اور زیادہ قدر والی صنعتوں تک رسائی مشکل ہوسکتی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بدلتی عالمی تجارت ترقی پذیر ممالک پر یکساں اثر نہیں ڈالے گی۔ کچھ معیشتیں متبادل سپلائر یا مصنوعات کی ترسیل کے درمیانی مراکز بن سکتی ہیں، مگر اس موقع کو مستقل فائدے میں بدلنے کے لیے صنعتی پیداوار، قواعد، مالیاتی وسائل اور ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانا ضروری ہوگا۔ خاص طور پر جدید ٹیکنالوجی تک رسائی اور سرمایہ کاری کی شرائط عالمی مسابقت میں زیادہ اہم ہوتی جارہی ہیں۔
انکٹاڈ کے مطابق 2025 میں عالمی تجارت کی مالیت ریکارڈ 35 ٹریلین ڈالر تک پہنچی۔ تاہم 2026 میں تجارتی مالیت بڑھنے کی ایک وجہ توانائی کے جھٹکے کے بعد قیمتوں میں اضافہ بھی ہے۔ یوں ڈالر میں بڑھتی مالیت کو لازماً تجارتی مقدار یا حقیقی معاشی سرگرمی میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں سمجھا جاسکتا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2024 کے بعد چین اور امریکا کے درمیان تجارت میں بیس فیصد سے زیادہ کمی آئی، جبکہ مشرقی ایشیائی ممالک نے چین اور شمالی امریکا دونوں کے ساتھ تجارت بڑھائی ہے۔ برآمدی پابندیوں، سرمایہ کاری کی جانچ اور سپلائی چین کے نئے تقاضوں نے حساس شعبوں میں نئے ممالک کے داخلے کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایشیا اب بھی بین الاقوامی برآمدات کا ایک متحرک خطہ ہے اور ایشیائی ممالک کے باہمی تجارتی روابط میں توسیع ہورہی ہے۔ دوسری جانب مصنوعی ذہانت سے متعلق سامان کی مانگ نے شمالی امریکا کی درآمدات کو سہارا دیا ہے۔ انکٹاڈ کی پیش گوئیوں کا تعلق موجودہ معاشی اندازوں سے ہے؛ عالمی کشیدگی، قیمتوں اور نئی پالیسیوں کے بدلنے سے حقیقی نتائج مختلف ہوسکتے ہیں۔
