بینکاک: عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس 12 سے 18 اکتوبر 2026 تک تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں منعقد ہونا ہیں، جہاں دنیا بھر کے مالیاتی حکام، مرکزی بینکوں کے سربراہان اور ترقیاتی ماہرین اقتصادی خطرات پر گفتگو کریں گے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اجلاس ایسے موقع پر ہو رہے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے توانائی کی عالمی فراہمی میں خلل پیدا کیا ہے اور کئی ممالک پہلے سے بلند قرضوں اور مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس سال گفتگو میں تیل اور دوسری توانائی مصنوعات کی قیمتوں، عالمی شرح سود اور سرکاری قرضوں کی پائیداری کو خاص اہمیت ملنے کی توقع ہے۔ توانائی کی لاگت بڑھنے سے درآمدات پر انحصار کرنے والی معیشتوں کے بیرونی کھاتے پر دباؤ آ سکتا ہے جبکہ خوراک، کھاد اور نقل و حمل کے اخراجات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ تاہم مختلف ملکوں پر اس دباؤ کی شدت ان کی معاشی ساخت، توانائی کی ضروریات اور مالی گنجائش کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے عالمی معاشی امکانات کے حوالے سے خبردار کیا ہے، جبکہ عالمی بینک کے صدر اجے بانگا نے بلند توانائی اور کھاد قیمتوں، قرضوں کی ذمہ داریوں اور موسمیاتی خطرات کے مشترکہ اثرات کی طرف توجہ دلائی ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلی سے منسلک شدید ال نینو کے ممکنہ اثرات کو بھی ان خدشات میں شمار کیا گیا۔ یہ ابتدائی تناظر ہے؛ آئندہ جاری ہونے والے ادارہ جاتی تخمینے اور اجلاسوں کے مشترکہ نتائج الگ سے دیکھنے ہوں گے۔
ترقی پذیر اور کم آمدن والے ممالک کے لیے زیادہ شرح سود پر قرض کی ادائیگی اور ترقیاتی پروگراموں کی مالی اعانت برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے ممالک کو خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے دوران سماجی تحفظ، بنیادی خدمات اور مالیاتی نظم و ضبط میں توازن پیدا کرنا پڑتا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط اور ان کے سماجی اثرات پر بھی مختلف ملکوں میں بحث جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے توانائی کی عالمی منڈیوں کو مستحکم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں جن میں ذخائر کے استعمال اور روسی ڈیزل کی فراہمی پر بعض پابندیوں میں نرمی کا معاملہ شامل ہے؛ اس پالیسی پر یوکرین نے تنقید کی ہے۔ اس تناظر میں بینکاک اجلاس بین الاقوامی مالی تعاون اور خطرات کے بارے میں تبادلہ خیال کا فورم ہوں گے۔ کسی مخصوص قرض، اصلاحاتی پیکیج یا نئے عالمی معاہدے کی منظوری کا دعویٰ اس اجلاس سے پہلے نہیں کیا جا سکتا۔
