بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی 7 اکتوبر سے پاکستان کا دو روزہ سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ دورہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر ہو رہا ہے اور اس دوران دونوں وزرائے خارجہ پاکستان-بحرین مشترکہ وزارتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔
سرکاری بیان کے مطابق مشترکہ وزارتی کمیشن میں دونوں ممالک کے تعلقات کے مجموعی دائرے کا جائزہ لیا جائے گا۔ مذاکرات میں تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون، دفاع و سلامتی، محنت و افرادی قوت اور ثقافتی تبادلوں سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات زیر بحث آئیں گے۔ دونوں فریق علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
پاکستان اور بحرین کے درمیان خلیجی خطے، افرادی قوت اور اقتصادی روابط کے تناظر میں تعلقات کئی شعبوں پر محیط ہیں۔ موجودہ اجلاس کی اہمیت اس اعتبار سے ہے کہ مشترکہ وزارتی کمیشن ایک باقاعدہ بین الحکومتی فورم کے طور پر مختلف وزارتوں اور شعبوں میں زیر التوا یا مجوزہ تعاون کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم دورے سے قبل جاری سرکاری تفصیل میں کسی نئے معاہدے، سرمایہ کاری کی حتمی مالیت یا دفاعی سمجھوتے کی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
دورے کے ایجنڈے میں تجارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ محنت اور افرادی قوت کا شامل ہونا دونوں ملکوں کے عوامی اور معاشی روابط کیلئے بھی اہم ہے۔ اسی طرح دفاع و سلامتی اور علاقائی امور پر بات چیت ایسے وقت میں ہوگی جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال خطے کے ممالک کی سفارتی ترجیحات پر نمایاں اثر ڈال رہی ہے۔
سرکاری پروگرام کے مطابق مذاکرات کا مرکزی ادارہ جاتی مرحلہ مشترکہ وزارتی کمیشن کا تیسرا اجلاس ہوگا۔ اجلاس کے بعد سامنے آنے والے مشترکہ اعلانات یا دستخط شدہ دستاویزات ہی یہ واضح کریں گے کہ کن شعبوں میں عملی پیش رفت یا نئے اہداف طے پاتے ہیں۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت بحرینی وزیر خارجہ کا دو روزہ دورہ، کمیشن کی مشترکہ صدارت اور دوطرفہ و علاقائی امور پر طے شدہ گفتگو ہے۔

