انقرہ/ریاض: ترکی یمن کے حوثیوں کے ساتھ بڑھتی ہوئی لڑائی کے دوران سعودی عرب کو تکنیکی اور دفاعی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ رائٹرز نے ترک حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اس مدد میں فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس تعاون، ڈرون آپریٹرز، فضائی دفاعی نظام اور لاجسٹک معاونت شامل ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز باب المندب کے قریب ساحلی علاقوں میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں اور حوثی سعودی عرب کے اندر ہوائی اڈوں، فوجی تنصیبات اور دیگر اہداف پر میزائل و ڈرون حملوں کے دعوے کر رہے ہیں۔ اس کشیدگی نے بحیرہ احمر اور اہم تجارتی بحری راستوں کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اگست میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پس منظر بھی اس تعاون سے جڑا ہوا ہے۔ تاہم ترکی نے اس معاہدے کی پارلیمانی توثیق ابھی مکمل نہیں کی، اس لیے موجودہ ترک معاونت کو بنیادی طور پر دوطرفہ اقدامات کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔

ترک حکام نے بتایا کہ انقرہ نے سعودی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطح پر رابطے بڑھائے ہیں اور دفاعی و تکنیکی مدد کی ہم آہنگی کی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاہدے کی توثیق کے بعد تعاون کی نوعیت وسیع ہو سکتی ہے، لیکن مستقبل کے کسی اضافی اقدام کو حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

پاکستان اور علاقائی ذرائع کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا کہ ریاض کو مختلف شراکت داروں سے فوجی سامان یا معاونت موصول ہوئی ہے۔ ایسے سکیورٹی معاملات میں بعض تفصیلات سرکاری طور پر مکمل طور پر عوامی نہیں ہوتیں، اس لیے مخصوص تعیناتیوں اور آپریشنل کردار سے متعلق معلومات کو ذرائع سے منسوب کرنا ضروری ہے۔

ترکی بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں میں بھی شامل ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔ باب المندب سے گزرنے والی عالمی تجارت کے باعث یمن کی جنگ کا دائرہ علاقائی سکیورٹی سے آگے بڑھ کر عالمی سپلائی چین، توانائی کی ترسیل اور بحری انشورنس تک اثر انداز ہو سکتا ہے۔