کیف: روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور متعدد دوسرے علاقوں پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جن میں یوکرینی حکام کے مطابق کم از کم 20 افراد ہلاک اور تقریباً 50 زخمی ہوئے۔ رائٹرز کے مطابق یہ حالیہ عرصے کے شدید ترین فضائی حملوں میں سے ایک تھا اور کئی علاقوں میں رہائشی و بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔

سب سے زیادہ جانی نقصان چرنیہیف خطے کے شہر پریلوکی میں رپورٹ ہوا، جہاں ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت تباہ ہونے سے 14 افراد ہلاک ہوئے۔ دیگر متاثرہ مقامات میں دنیپرو، زاپوریژیا اور کریمنچک شامل ہیں، جبکہ کیف میں شہریوں نے رات کے دوران زیر زمین میٹرو اسٹیشنوں میں پناہ لی۔

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے حملوں کی مذمت کی اور مزید فضائی دفاعی مدد، خصوصاً پیٹریاٹ نظام، کی ضرورت دہرائی۔ یوکرین کی فضائیہ نے بڑی تعداد میں ڈرونز کو مار گرانے کا دعویٰ کیا، تاہم بیلسٹک میزائلوں کو بدستور بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ہلاکتوں اور تباہی کی تفصیلات یوکرینی حکام سے منسوب ہیں اور جنگی حالات میں اعداد و شمار تبدیل ہو سکتے ہیں۔

روس کی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کی افواج نے کیف اور دیگر علاقوں میں فوجی صنعتی تنصیبات پر ’’بڑے پیمانے‘‘ کی کارروائی کی۔ ماسکو نے اوڈیسا کے علاقے میں بندرگاہی تنصیبات اور یوکرینی مسلح افواج کے مفاد میں استعمال ہونے والے بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ روسی بیان میں شہری اہداف کو دانستہ نشانہ بنانے کی بات نہیں کی گئی۔

حملوں کے بعد یوکرین کے پانچ علاقوں میں توانائی کی جزوی بندش کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ یورپی یونین کی جانب سے دفاعی امداد کے ایک نئے پیکج کا ذکر بھی کیا گیا، جبکہ کیف نے روسی انفراسٹرکچر پر جوابی حملوں کی اطلاع دی ہے۔

روس اور یوکرین کے باہمی دعوؤں کی آزادانہ تصدیق جنگی ماحول میں ہمیشہ فوری طور پر ممکن نہیں ہوتی۔ اس لیے ہدف، نقصان اور فوجی کامیابی سے متعلق متضاد بیانات کو متعلقہ فریقوں سے منسوب کرنا ضروری ہے۔ تازہ حملوں نے ایک بار پھر شہری تحفظ اور فضائی دفاع کو جنگ کے مرکزی مسائل میں شامل کر دیا ہے۔