عدن: یمن کے حوثی گروپ نے عدن بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے، جس سے ملک میں جاری لڑائی مزید شدت اختیار کر گئی۔ رائٹرز کے مطابق حملے کے باعث ایک آنے والی پرواز متاثر ہوئی اور ہوائی اڈے پر ہنگامی حفاظتی اقدامات کیے گئے۔
تازہ کشیدگی کا مرکز باب المندب کے قریب ساحلی علاقے بھی ہیں، جہاں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فورسز، سعودی حمایت کے ساتھ، ان علاقوں کو واپس لینے کی کوشش کر رہی ہیں جن پر حالیہ عرصے میں حوثیوں نے قبضہ کیا تھا۔ باب المندب عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے۔
حوثیوں نے سعودی عرب کے اندر بھی متعدد اہداف، جن میں ریاض، ابہا اور خمیس مشیط کے ہوائی اڈے یا فوجی تنصیبات شامل ہیں، کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔ سعودی حکام نے بعض میزائلوں یا ڈرونز کو روکنے کی تصدیق کی ہے، لیکن حوثیوں کے تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
یمن میں بارہ سال سے جاری تنازع پہلے ہی بڑے انسانی بحران کا سبب بن چکا ہے۔ تازہ لڑائی کے نتیجے میں نقل مکانی میں اضافے اور امدادی سرگرمیوں پر مزید دباؤ کے خدشات ہیں۔ باب المندب اور بحیرہ احمر کے گرد عسکری کشیدگی کا اثر صرف یمن تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی جہاز رانی، انشورنس لاگت اور توانائی منڈیوں تک پھیل سکتا ہے۔
حوثی اپنے علاقائی تعلقات کے بارے میں مخالف فریقوں کے بعض الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں، جبکہ سعودی حمایت یافتہ اتحاد انہیں ایران سے منسلک قوت قرار دیتا ہے۔ ایسے دعوؤں کو متعلقہ فریقوں کے موقف کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔
عدن ایئرپورٹ پر حملہ اور ساحلی محاذ پر پیش قدمی ایک ہی وسیع تنازع کے مختلف حصے ہیں، تاہم ہر حملے کے نقصانات اور ذمہ داری سے متعلق تفصیلات جنگی حالات میں بدل سکتی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس کشیدگی کو بحری راستوں اور علاقائی استحکام کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔
