فیئربینکس: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے اور جاری جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کو اپنی یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں ’’معنی خیز‘‘ کمی کرنا ہوگی۔ وینس نے یہ بات الاسکا میں انتخابی مہم کے دوران رائٹرز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔

وینس کے مطابق واشنگٹن صرف مستقبل کی یقین دہانیوں کو کافی نہیں سمجھے گا بلکہ افزودگی کی موجودہ صلاحیت میں عملی کمی چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اب بھی معاہدے کے لیے تیار ہے، لیکن مذاکرات میں یہ سوال پیچیدہ بنا ہوا ہے کہ تہران میں حتمی فیصلہ سازی کس سطح پر ہوتی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی موقف کے اس حصے سے اختلاف کیا اور امریکی پیغامات میں عدم تسلسل کی جانب اشارہ کیا۔

رائٹرز کے مطابق امریکا ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ رابطوں میں ہے۔ وینس نے جنگ کے خاتمے کے لیے جوہری پروگرام کو مرکزی مسئلہ قرار دیا، تاہم ان کے بیانات امریکی مذاکراتی پوزیشن کی نمائندگی کرتے ہیں؛ انہیں کسی طے شدہ معاہدے یا ایران کی قبولیت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

امریکا اور ایران کے درمیان سات ماہ سے جاری جنگ نے خطے کی سلامتی اور عالمی توانائی منڈیوں پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل، خلیجی ممالک کی سکیورٹی اور تیل و گیس کی قیمتیں اس تنازع کے اہم عالمی اثرات میں شامل ہیں۔ وینس نے امریکی فوجی صلاحیت اور دستیاب اسلحے سے متعلق خدشات کو بھی مسترد کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جون میں ایک عارضی امن سمجھوتے کی کوشش زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکی۔ تازہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن کسی نئے سیاسی راستے کے لیے ایران کی افزودگی صلاحیت میں قابل پیمائش کمی کو بنیادی شرط کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام پر اختلاف کئی برس سے بین الاقوامی سفارت کاری کا مرکزی موضوع رہا ہے، لیکن موجودہ جنگی حالات میں یہ مسئلہ براہ راست جنگ بندی اور وسیع علاقائی استحکام سے جڑ گیا ہے۔ آئندہ پیش رفت اس بات پر منحصر ہوگی کہ دونوں فریق عملی شرائط، تصدیقی نظام اور سیاسی ضمانتوں پر کس حد تک قریب آتے ہیں۔