کوئٹہ: بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے بلوچستان میں سیف سٹی منصوبوں کو زیادہ مؤثر، فعال اور جدید سکیورٹی تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے بین الصوبائی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ ڈان کی 5 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی درخواست پر پنجاب کے متعلقہ اداروں کو ادارہ جاتی معاونت اور تکنیکی مدد فراہم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

مجوزہ تعاون کے تحت دونوں صوبوں کی سیف سٹی اتھارٹیز سکیورٹی مانیٹرنگ کے نظام بہتر بنانے، تکنیکی معاونت، عملے کی استعداد کار بڑھانے اور تجربات و مہارت کے تبادلے پر مشترکہ طور پر کام کریں گی۔ اس پیش رفت پر بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کے اجلاس میں تفصیلی غور کیا گیا، جس کی صدارت وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان کے نو شہروں میں سیف سٹی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل احسن یونس نے کہا کہ ان کا ادارہ بلوچستان کو عملے کی تربیت، صلاحیت سازی اور جدید تکنیکی مہارت کی منتقلی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون فراہم کرے گا تاکہ منصوبوں کو مؤثر انداز میں چلایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سیف سٹی منصوبے صرف نگرانی کے کیمروں تک محدود نہیں بلکہ جدید شہری سکیورٹی کے وسیع انفراسٹرکچر کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر نگرانی جرائم کی روک تھام، مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ردعمل کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو، چیف سیکریٹری شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات، انسپکٹر جنرل پولیس محمد طاہر خان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ منصوبوں کی عملی کامیابی کا انحصار ٹیکنالوجی کی تنصیب کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ عملے، مسلسل دیکھ بھال، اداروں کے درمیان رابطے اور نگرانی کے نظام کے ذمہ دارانہ استعمال پر ہوگا۔ پنجاب اور بلوچستان کے درمیان یہ تعاون صوبائی سطح پر موجود تجربے اور تکنیکی صلاحیت کو مشترکہ عوامی تحفظ کے اہداف کے لیے استعمال کرنے کی کوشش ہے۔