گلگت: اسکردو کی روندو وادی میں شنگوس کے قریب شدید لینڈ سلائیڈ کے باعث بلتستان روڈ مکمل طور پر بند ہو گئی، جس سے سیاحوں سمیت ہزاروں مسافر سڑک کے دونوں جانب پھنس گئے۔ گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (جی بی ڈی ایم اے) کے مطابق ملبہ مسلسل گرنے کی وجہ سے ٹریفک معطل رہی اور راستے میں موجود بڑے پتھروں کو عام بھاری مشینری سے ہٹانا ممکن نہیں تھا۔
جی بی ڈی ایم اے نے بتایا کہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن بلاسٹنگ ٹیم کو متحرک کر رہی ہے تاکہ بڑے پتھروں کو توڑ کر سڑک صاف کی جا سکے۔ اتھارٹی نے سیاحوں اور مقامی شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور لینڈ سلائیڈ کے مقام کو پیدل عبور کرنے کی کوشش نہ کرنے کی ہدایت کی، کیونکہ مزید ملبہ گرنے کا خطرہ موجود ہے۔ مسافروں کو روانگی سے پہلے پولیس ہیلپ لائن 15 کے ذریعے تازہ سڑک صورتحال معلوم کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا۔
167 کلومیٹر طویل جگلوٹ-اسکردو روڈ، جسے اب بلتستان روڈ کہا جاتا ہے، دریائے سندھ کے ساتھ دشوار گزار پہاڑی علاقے سے گزرتی ہے۔ اسکردو، کھرمنگ، شگر اور گانچھے کے اضلاع کے رہائشی دیگر علاقوں تک رسائی کے لیے بڑی حد تک اسی شاہراہ پر انحصار کرتے ہیں۔ تعمیر نو کے بعد یہ سڑک 2021 میں کھولی گئی تھی، لیکن مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈ اور پتھر گرنے کے واقعات مسلسل سفری خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
مقامی رہائشیوں نے سڑک پر حفاظتی انتظامات ناکافی ہونے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق متعدد مقامات پر حفاظتی رکاوٹیں اور واضح انتباہی نشان موجود نہیں جبکہ بعض چیک پوسٹوں کے قریب مواصلاتی سہولت بھی محدود ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ تیز موڑ اور لینڈ سلائیڈ کے حساس مقامات پر اضافی حفاظتی اقدامات نہ ہونے سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
حالیہ بندش نے ایک بار پھر اس اہم رابطہ شاہراہ کی موسمی اور ارضیاتی کمزوری کو نمایاں کیا ہے۔ جی بی ڈی ایم اے نے سڑک کھلنے تک سفر محدود رکھنے پر زور دیا ہے، جبکہ ملبہ ہٹانے کا کام زمینی حالات محفوظ ہونے سے مشروط ہے۔ حکام کی جانب سے راستہ بحال ہونے کا حتمی وقت نہیں دیا گیا، اس لیے بلتستان جانے یا وہاں سے نکلنے والے مسافروں کو سرکاری اپ ڈیٹس کی بنیاد پر سفر کی منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
