لاہور: پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہفتے کے روز فضائی آلودگی نے خطرناک صورت اختیار کرلی اور شہر عالمی سطح پر آلودہ بڑے شہروں کی فہرست میں سرفہرست آگیا۔ فضائی معیار پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم آئی کیو ایئر کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور کی فضا میں باریک ذرات، یعنی PM2.5، بنیادی آلودہ عنصر رہے اور ان کی مقدار عالمی ادارۂ صحت کی سالانہ رہنما حد سے تقریباً 45.2 گنا زیادہ رپورٹ کی گئی۔

فضائی آلودگی کی یہ شدت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پنجاب میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ اسموگ کا سالانہ دور شروع ہو رہا ہے۔ سردیوں کی جانب بڑھتے موسم میں کم ہوا، درجہ حرارت میں تبدیلی اور مقامی اخراج مل کر آلودہ ذرات کو فضا کی نچلی سطح پر روک سکتے ہیں، جس سے شہری علاقوں میں سانس لینے کے قابل ہوا کا معیار تیزی سے خراب ہوتا ہے۔ لاہور کئی برسوں سے اسموگ کے شدید ادوار کا سامنا کرتا آیا ہے، تاہم کسی بھی دن کا ایئر کوالٹی انڈیکس موسمی حالات اور اخراج کے مطابق تیزی سے بدل سکتا ہے۔

طبی ماہرین نے شہریوں کو بیرونِ خانہ نکلتے وقت ماسک استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے، بالخصوص ان افراد کو جو سانس، دل یا دیگر ایسی بیماریوں سے متاثر ہیں جن میں آلودہ ہوا خطرات بڑھا سکتی ہے۔ آئی کیو ایئر نے بھی بیرونی ورزش سے گریز، کھڑکیاں بند رکھنے اور جہاں ممکن ہو اندرونی فضا صاف رکھنے کے لیے ایئر پیوریفائر استعمال کرنے کی سفارش کی ہے۔ بچوں، عمر رسیدہ افراد اور پہلے سے طبی مسائل رکھنے والے شہریوں کے لیے زیادہ احتیاط ضروری سمجھی جاتی ہے۔

PM2.5 ایسے نہایت باریک ذرات ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں میں گہرائی تک داخل ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے ان کی بلند مقدار کو فضائی معیار کے اہم ترین صحت اشاریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی رہنما حدود طویل مدتی صحت کے تحفظ کے لیے کم سطح کی آلودگی کی سفارش کرتی ہیں، جبکہ لاہور میں رپورٹ ہونے والی مقدار اس معیار سے نمایاں طور پر زیادہ تھی۔

حالیہ صورت حال ایک بار پھر اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسموگ کے موسم میں اخراج کی نگرانی، ٹریفک اور صنعتی آلودگی میں کمی، فصلوں کی باقیات جلانے کے مسئلے سے نمٹنے اور شہریوں کو بروقت صحت ہدایات فراہم کرنے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ روزانہ فضائی معیار کی تازہ صورت حال دیکھ کر بیرونی سرگرمیوں کا فیصلہ کریں کیونکہ آلودگی کی سطح دن کے مختلف اوقات میں بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔