بنوں: پولیس امن کمیٹی کے ارکان نے لکی مروت امن کمیٹی کے ایک رکن کی پشاور سے مبینہ گمشدگی کے خلاف بنوں اور لکی مروت میں احتجاج شروع کردیا، جس کے باعث بنوں شہر میں معمول کی پولیسنگ اور ٹریفک کا نظام متاثر ہوا۔ دی ایکسپریس ٹریبیون کی 28 اگست کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کے اہلکاروں نے مختلف مقامات پر اپنی ذمہ داریوں کا بائیکاٹ کیا جبکہ ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی احتجاج میں شریک ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں امن کمیٹی کے ارکان بنوں پولیس لائنز میں جمع ہوئے۔ مظاہرین نے شہر میں کام کرنے والے بینک بند کرائے، جس سے شہریوں کو مشکلات پیش آئیں، اور سرکاری دفاتر بند کرانے کا اعلان بھی کیا۔ یہ اعلان مظاہرین کی جانب سے کیا گیا تھا؛ رپورٹ میں اس وقت تک ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تمام سرکاری دفاتر بند ہونے کی باقاعدہ تصدیق شامل نہیں تھی۔

امن کمیٹی کے صدر حضرت اللہ نے دی ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو میں کہا کہ احتجاج کا مقصد امن کے قیام کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لکی مروت امن کمیٹی کے ایک رکن کو پشاور سے مبینہ طور پر اٹھایا گیا۔ اس دعوے کی آزاد یا سرکاری تصدیق رپورٹ میں موجود نہیں، اس لیے واقعے کو گمشدگی یا اغوا کے ثابت شدہ نتیجے کے بجائے امن کمیٹی کا الزام اور احتجاج کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

حضرت اللہ کے مطابق احتجاج کسی مخصوص پولیس افسر یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ ساتھی کی بازیابی اور علاقے میں امن کے مطالبے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن کمیٹی کے ارکان خود کو پولیس فورس کا حصہ سمجھتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف مؤقف رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کمیٹی رہنماؤں نے بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے امن کمیٹی کی مخالفت پر بھی تنقید کی، تاہم کسی مخصوص جماعت کا نام یا اس کا جواب رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔

یہ ایک ہفتے کے اندر بنوں اور گرد و نواح میں امن کمیٹی سے وابستہ اہلکاروں کا دوسرا احتجاج بتایا گیا ہے۔ 25 اگست کو کمیٹی کے ارکان نے خیبر پختونخوا پولیس کے سات اہلکاروں کے دیگر اضلاع میں تبادلے کے خلاف ڈیوٹی کا بائیکاٹ کیا تھا اور احکامات واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پہلے احتجاج سے بھی بعض علاقوں میں پولیسنگ اور ٹریفک متاثر ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔

موجودہ احتجاج کے وقت پولیس حکام کی جانب سے مبینہ گمشدگی، احتجاجی بائیکاٹ یا بینک بند کرانے کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا تھا۔ اسی لیے ذمہ دار ادارے، زیر حراست ہونے یا نہ ہونے، اور متعلقہ رکن کے مقام کے بارے میں کوئی قطعی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ آئندہ پولیس یا انتظامیہ کی تصدیق، رکن کی بازیابی یا احتجاج کے خاتمے کی اطلاع سامنے آئے تو اسی واقعے کے ریکارڈ کو نئی معلومات کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک