اسلام آباد: سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا حکومت کے بعض ملازمین کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ان کی سینیارٹی اصل پوزیشن پر بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی 28 اگست کی رپورٹ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر نے 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔ عدالت نے متعلقہ سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور واضح کیا کہ سرکاری انتظامیہ کی تاخیر سے ملازمین کا پہلے سے حاصل شدہ قانونی حق ختم نہیں کیا جاسکتا۔

رپورٹ کے مطابق اپیل کنندہ ملازمین کی مستقلی 7 مارچ 2018 سے مؤثر قرار دی گئی تھی۔ مقدمے میں 28 اگست اور 17 اکتوبر 2018 کے نوٹیفکیشنز کا ذکر سامنے آیا، جبکہ ان کی گزٹ میں اشاعت 21 اگست 2024 کو ہوئی۔ تنازع اس بات پر پیدا ہوا کہ بعد میں ہونے والی گزٹ اشاعت کو بنیاد بنا کر ملازمین کی سینیارٹی کس تاریخ سے شمار کی جائے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ محض انتظامی اشاعت میں تاخیر کے باعث ملازمین کو اس قانونی حیثیت سے محروم نہیں کیا جاسکتا جو متعلقہ کارروائی سے پہلے ہی پیدا ہوچکی تھی۔

فیصلے میں یہ اصول بیان کیا گیا کہ ریاست اپنی غلطی یا انتظامی کوتاہی سے فائدہ نہیں اٹھاسکتی۔ عدالتی حکم کا عملی نتیجہ انہی اپیل کنندگان کی سینیارٹی بحال کرنا ہے جن کا تنازع عدالت کے سامنے تھا۔ اسے ہر سرکاری ملازم، ہر محکمے یا ہر نوعیت کی مستقلی پر خودکار طور پر لاگو ہونے والا عمومی اعلان نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ دوسرے مقدمات کے حقائق، قواعد اور نوٹیفکیشن مختلف ہوسکتے ہیں۔

ایکسپریس اردو کے مطابق 2019 سے 2023 تک جاری ہونے والی سینیارٹی فہرستوں میں اپیل کنندگان کو سینئر شمار کیا گیا تھا۔ بعد کی انتظامی تشریح نے ان کی پوزیشن متاثر کی تو معاملہ قانونی فورمز تک پہنچا۔ سپریم کورٹ نے سروس ٹربیونل کے نتیجے کو برقرار نہیں رکھا اور ملازمین کے اس دعوے کو تسلیم کیا کہ سرکاری عمل کی تاخیر ان کے خلاف استعمال نہیں ہوسکتی۔

سینیارٹی سرکاری ملازمت میں ترقی، تقرری کے مواقع اور بعض دوسرے انتظامی حقوق کے تعین میں اہم ہوسکتی ہے، مگر موجودہ فیصلے کے بعد ہر انفرادی فائدہ متعلقہ سروس قواعد اور محکمانہ عمل کے مطابق طے ہوگا۔ دستیاب رپورٹ کسی مخصوص ترقی، مالی ادائیگی یا تمام ملازمین کے لیے نئی عمومی پالیسی کا اعلان نہیں کرتی۔ اس لیے خبر کا دائرہ عدالت کے سامنے موجود اپیلوں، ان کی مستقلی کی تاریخ اور سینیارٹی کی بحالی تک محدود ہے۔

عدالتی فیصلے کی رپورٹنگ میں سروس ٹربیونل کے سابقہ حکم اور سپریم کورٹ کے حتمی نتیجے کے درمیان فرق ضروری ہے۔ ٹربیونل کا فیصلہ اب ان اپیلوں میں برقرار نہیں رہا، جبکہ سپریم کورٹ نے اصل سینیارٹی بحال کرنے کی ہدایت دی ہے۔ متعلقہ حکومت اور محکموں کو اس حکم پر عمل درآمد کے دوران عدالتی فیصلے کے متن اور قابل اطلاق سروس قواعد کو سامنے رکھنا ہوگا۔ کسی دوسرے ملازم کے دعوے کا نتیجہ اس فیصلے کا مکمل متن اور اس کے اپنے حقائق دیکھے بغیر اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک