لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی، اضافی ٹیکسوں اور بجلی کے مسائل کے خلاف جاری احتجاجی تحریک روکی نہیں جائے گی۔ ایکسپریس اردو کی 28 اگست کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ 3 ستمبر کی ہڑتال سے پہلے کیا جائے یا بعد میں، اس کا فیصلہ جماعت کی مشاورت کے بعد ہوگا۔ اس مرحلے پر لانگ مارچ کی قطعی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا، اس لیے اسے طے شدہ پروگرام کے بجائے زیرِ غور اگلا قدم سمجھا جائے گا۔

حافظ نعیم الرحمٰن کے مطابق لاہور، پشاور اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں دھرنے جاری ہیں، پنجاب کے متعدد مقامات پر احتجاجی کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں اور حیدرآباد میں بھی دھرنا اور کیمپ شروع ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں 28 اگست کو جلسہ ہوگا، 30 اگست کو راولپنڈی میں جلسہ عام منعقد کیا جائے گا جبکہ 31 اگست کو پشاور کے دھرنے کو جلسہ عام میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے۔ کراچی کے دھرنے کو بھی بڑے جلسے میں بدلنے کا اعلان کیا گیا۔ یہ تمام پروگرام جماعت اسلامی کے اعلان کردہ شیڈول کا حصہ ہیں؛ ان کے انعقاد، مقام یا وقت میں انتظامی یا تنظیمی تبدیلی ہوسکتی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 3 ستمبر کی ہڑتال کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں اور تاجر برادری و صنعتکاروں سے رابطہ کیا جائے گا۔ ہڑتال کی عملی وسعت، بازاروں کی شرکت، ٹرانسپورٹ کی صورتحال اور مختلف شہروں میں معمولات پر ممکنہ اثرات کا تعین اعلان سے نہیں بلکہ متعلقہ تنظیموں، انتظامیہ اور موقع کی صورتحال سے ہوگا۔ رپورٹ میں حکومت یا تاجر تنظیموں کا تفصیلی جواب شامل نہیں تھا۔

حافظ نعیم نے حکومت سے پیٹرولیم لیوی اور عوام پر عائد اضافی ٹیکس ختم کرنے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بجلی کی پیداواری صلاحیت، کیپسٹی پیمنٹس اور تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کے بارے میں سوالات اٹھائے۔ یہ اعداد و دعوے ان کی سیاسی تنقید اور جماعت اسلامی کے مؤقف کے طور پر رپورٹ ہوئے ہیں؛ اس خبر میں ان کا آزاد مالی یا تکنیکی آڈٹ پیش نہیں کیا جا رہا۔ حکومت یا توانائی اداروں کی جانب سے تازہ جواب سامنے آنے پر اسے الگ اور واضح نسبت کے ساتھ شامل کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس میں حافظ نعیم نے حکومت پر اشرافیہ کو مراعات دینے، کاروبار کو نقصان پہنچانے اور عوامی مسائل نظرانداز کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔ انہوں نے مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم پر سیاسی تنقید کی اور وزیراعلیٰ پنجاب کے بارے میں سخت زبان استعمال کی۔ یہ جماعت اسلامی کے سربراہ کے الزامات اور سیاسی بیانات ہیں، کسی عدالتی یا تحقیقاتی فورم کے ثابت شدہ نتائج نہیں۔ متعلقہ جماعتوں یا حکومتی نمائندوں کا جواب اس رپورٹ میں موجود نہیں تھا۔

تازہ قابلِ تصدیق پیش رفت 3 ستمبر کی ملک گیر ہڑتال کا اعلان، مختلف شہروں کے جلسوں کا مجوزہ شیڈول اور لانگ مارچ کی تاریخ کو مشاورت سے طے کرنے کا بیان ہے۔ احتجاج کے آئندہ مرحلے، انتظامیہ کے ردعمل، مذاکرات یا شیڈول میں تبدیلی کی باقاعدہ اطلاع سامنے آئے تو اسی واقعے کے ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا تاکہ ایک ہی تحریک کی نئی پیش رفت الگ خبر بن کر دہرائی نہ جائے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک