لندن: برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے مالی دباؤ اور اخراجات کم کرنے کے وسیع منصوبے کے تحت نیوز ڈویژن میں 100 سے زائد عہدے ختم کرنے اور دو چینلز بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ادارے کا مجموعی ہدف اگلے دو برس میں تقریباً 500 ملین پاؤنڈ، یعنی 668 ملین ڈالر کے مساوی، بچت حاصل کرنا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق بی بی سی نیوز کی ڈائریکٹر ریچل جپ نے عملے کے نام داخلی نوٹ میں بتایا کہ نیوز آپریشن میں مجموعی طور پر 100 سے کچھ زیادہ عہدوں کی خالص کمی ہوگی۔ ان تبدیلیوں سے تقریباً 5.5 ملین پاؤنڈ کی بچت متوقع ہے۔ یہ اقدام پورے بی بی سی میں زیر غور تقریباً دو ہزار ملازمتوں کی کمی کے بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔
ریچل جپ نے رواں ماہ بی بی سی نیوز کی سربراہی سنبھالی تھی۔ ان کے پیش رو نے گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق ایک دستاویزی پروگرام کی متنازع تدوین پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ نئی انتظامیہ کو ایک طرف صحافتی معیار اور عالمی نیوز آپریشن برقرار رکھنے جبکہ دوسری طرف تیزی سے بڑھتے مالی دباؤ کا سامنا ہے۔
دو چینلز کی بندش اور ملازمتوں میں کمی اس وسیع تبدیلی کی علامت ہے جس سے روایتی نشریاتی ادارے گزر رہے ہیں۔ ناظرین کی بڑی تعداد ڈیجیٹل اور آن ڈیمانڈ پلیٹ فارمز کی طرف منتقل ہو رہی ہے، جبکہ ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے روایتی ڈھانچے کی لاگت برقرار ہے۔ بی بی سی کے لیے لائسنس فیس، حکومتی پالیسی اور مستقبل کے فنڈنگ ماڈل سے متعلق بحث بھی مسلسل جاری ہے۔
اعلان کردہ تبدیلیوں کا عملی اثر مختلف شعبوں اور ملازمین پر مشاورت اور نفاذ کے بعد زیادہ واضح ہوگا۔ اس مرحلے پر تصدیق شدہ معلومات ادارے کے بچت ہدف، نیوز ڈویژن میں عہدوں کی کمی اور دو چینلز کی بندش کے اعلان تک محدود ہیں۔ مزید تنظیمی تبدیلیاں آئندہ مرحلوں میں سامنے آ سکتی ہیں۔
