برسلز: یورپی یونین نے منگل کو آرکٹک خطے کے لیے نئی حکمت عملی پیش کی ہے جس میں دفاعی اور سکیورٹی خدشات کو پہلے سے زیادہ مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ منصوبے میں سیٹلائٹ کے ذریعے نگرانی بڑھانے، زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کی مانیٹرنگ مضبوط کرنے اور ضرورت مند رکن ممالک کو آئس بریکر جہازوں کے حصول میں مدد دینے کے اقدامات شامل ہیں۔
رائٹرز کے مطابق یورپی یونین کا کہنا ہے کہ آرکٹک اب صرف ماحول، تحقیق اور قدرتی وسائل کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یورپی سلامتی، بحری راستوں اور اہم بنیادی ڈھانچے سے براہ راست جڑ چکا ہے۔ روس کی آرکٹک سرگرمیوں اور بڑی طاقتوں کی بڑھتی دلچسپی نے خطے کو جغرافیائی سیاست کے اہم میدانوں میں شامل کر دیا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے روسی سرگرمیوں کے یورپ پر اثرات کی طرف توجہ دلائی۔ نئی حکمت عملی میں خلا سے نگرانی کے نظاموں کو بہتر بنانے اور سمندر کے نیچے موجود مواصلاتی و توانائی ڈھانچے کی حفاظت پر زور دیا گیا ہے، کیونکہ ایسی کیبلز یورپی ڈیجیٹل معیشت اور بین الاقوامی رابطوں کے لیے اہم ہیں۔
آئس بریکر جہازوں کی خریداری میں تعاون بھی منصوبے کا حصہ ہے۔ آرکٹک کے برف پوش سمندری علاقوں میں نقل و حرکت، تحقیق، امدادی کارروائیوں اور سرکاری موجودگی کے لیے ایسے جہاز بنیادی صلاحیت سمجھے جاتے ہیں۔ یورپی یونین نے اس شعبے میں رکن ممالک کی استعداد بڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، تاہم ہر منصوبے کی مالی تفصیل اور خریداری کا شیڈول الگ فیصلوں سے طے ہوگا۔
گرین لینڈ کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خریداری کی خواہش نے بھی حالیہ عرصے میں آرکٹک کی عالمی سیاسی اہمیت کو نمایاں کیا ہے۔ امریکا، روس، یورپی ممالک اور چین سمیت متعدد طاقتیں خطے کے بحری راستوں، معدنی وسائل اور سکیورٹی امکانات پر گہری نظر رکھتی ہیں۔
نئی حکمت عملی ایک پالیسی فریم ورک ہے، نہ کہ کسی فوری فوجی تعیناتی کا اعلان۔ اس کے عملی اثرات اس بات پر منحصر ہوں گے کہ یورپی ادارے اور رکن ممالک نگرانی، بحری صلاحیت، انفراسٹرکچر تحفظ اور مالی وسائل سے متعلق تجاویز کو کس رفتار سے نافذ کرتے ہیں۔

