اسلام آباد/ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 10 اکتوبر کو ہونے والے میزائل حملے میں زخمی ہونے والے پاکستانی شہری فیض علی شیخ نے واقعے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ عرب نیوز پاکستان کے مطابق اس حملے میں مجموعی طور پر 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں 17 پاکستانی شہری شامل تھے۔ حملہ یمن کی ایران سے منسلک حوثی تحریک کی جانب سے کیا گیا تھا۔
فیض علی شیخ کا تعلق سندھ کے شہر حیدرآباد سے ہے اور وہ گزشتہ 24 برس سے ابوظبی میں مقیم ہیں۔ وہ مدینہ منورہ جانے کے لیے ریاض ایئرپورٹ پر موجود تھے اور سکیورٹی مراحل مکمل کرنے کے بعد نشست تلاش کر رہے تھے کہ حملہ ہوا۔ ان کے مطابق ٹرمینل میں اچانک دھواں، چیخ و پکار اور افراتفری پھیل گئی۔ وہ خود پاؤں میں شدید زخم کے باوجود ابتدائی لمحوں میں درد محسوس نہیں کر سکے اور باہر نکلنے کی کوشش کرتے رہے۔
زخمی پاکستانی شہری کو سعودی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی حکام اور طبی عملے نے علاج اور دیکھ بھال میں بھرپور تعاون کیا۔ انہیں 15 اکتوبر کو اسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ بعد ازاں پاکستان کے سفارت خانے نے ان کے لیے زمینی راستے سے متحدہ عرب امارات واپسی کے انتظامات میں مدد فراہم کی، تاکہ زخمی حالت میں سفر نسبتاً آرام سے کیا جا سکے۔
حالیہ ہفتوں میں حوثی فورسز نے سعودی عرب میں توانائی، فضائی نقل و حمل اور شہری تنصیبات کو ڈرون اور میزائل حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں نے خطے میں جاری امریکا-ایران کشیدگی کے وسیع تر اثرات اور شہری انفراسٹرکچر کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھائے ہیں۔ ریاض ایئرپورٹ پر حملہ بھی اسی سلسلے کا ایک نمایاں واقعہ تھا۔
پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے کی تعداد اور فیض علی شیخ کے علاج و واپسی کی تفصیلات دستیاب رپورٹ میں بیان کی گئی ہیں۔ واقعے کے فوجی اور علاقائی پس منظر سے متعلق دعوؤں میں مختلف فریقوں کے مؤقف الگ ہو سکتے ہیں، تاہم شہریوں کے زخمی ہونے اور پاکستانی سفارت خانے کی معاونت کی اطلاع متاثرہ شہری اور رپورٹنگ کے ذریعے سامنے آئی ہے۔
