انقرہ: ترکی نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کو پارلیمان میں توثیق کے لیے پیش کر دیا ہے۔ معاہدے کے متن اور ترک پارلیمانی ذرائع کے مطابق یہ انتظام ابتدائی طور پر دس سال کے لیے مؤثر ہوگا اور کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ارکان کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق معاہدے کو مکہ دفاعی معاہدے کا نام دیا گیا ہے اور ترکی کی پارلیمان میں اس پر بحث اور توثیق کا عمل شروع ہونے والا ہے۔ پارلیمانی ذرائع نے بتایا کہ متعلقہ کمیشن اس دستاویز پر جمعہ تک غور کر سکتا ہے۔ تاہم پارلیمانی توثیق مکمل ہونے سے پہلے معاہدے کی ترک قانونی حیثیت کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

دستیاب متن میں باہمی دفاع کے اصول کے ساتھ عسکری تعاون کے مختلف پہلو شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ترکی کا کردار بڑی حد تک دفاعی سازوسامان، انٹیلی جنس تعاون اور ہتھیاروں کے نظام سے متعلق رہنے کی توقع ہے۔ یہ تفصیل موجودہ رپورٹنگ پر مبنی ہے اور عملی تعیناتی یا کسی مخصوص فوجی کارروائی کا اعلان نہیں ہے۔

معاہدہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی صورت حال کشیدہ ہے اور سعودی عرب کو حوثی حملوں سے متعلق خدشات کا سامنا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب پہلے ہی دفاعی تعاون کی طویل تاریخ رکھتے ہیں، جبکہ ترکی کے پاکستان کے ساتھ بھی دفاعی صنعت، تربیت اور عسکری رابطوں میں قریبی تعلقات ہیں۔ سہ فریقی فریم ورک ان دوطرفہ روابط کو ایک رسمی مشترکہ ڈھانچے میں لانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معاہدے کی ابتدائی مدت دس سال ہوگی۔ باہمی دفاع کی شق اس دستاویز کا نمایاں حصہ ہے، لیکن اس کے عملی اطلاق کا انحصار معاہدے کی مکمل قانونی توثیق، رکن ممالک کے داخلی طریقہ کار اور کسی ممکنہ بحران کی نوعیت پر ہوگا۔ اس مرحلے پر اسے کسی جاری جنگ میں خودکار فوجی شمولیت کا اعلان سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

ترکی کی پارلیمانی کارروائی معاہدے کے نفاذ کے لیے اہم اگلا مرحلہ ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب سے متعلق داخلی منظوریوں اور نفاذ کی تفصیلات الگ قانونی و انتظامی عمل کے تابع ہو سکتی ہیں۔ دستیاب خبر میں بنیادی پیش رفت ترکی کی جانب سے دستاویز کو پارلیمانی توثیق کے لیے پیش کرنا اور معاہدے کی مدت و مشترکہ دفاعی اصول کا سامنے آنا ہے۔