انقرہ: ترکی نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ توثیق کے لیے اپنی پارلیمان کو بھیج دیا ہے۔ اگست میں دستخط کیے گئے اس سہ فریقی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ریاست پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 میں تسلیم شدہ انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق کا حوالہ دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تینوں ممالک نے کسی رکن کی علاقائی سالمیت، خودمختاری یا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کو لاحق خطرات کے مقابلے کے لیے ضروری ذرائع استعمال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ معاہدہ توثیقی دستاویزات ریاض میں سیکریٹریٹ کے پاس جمع ہونے کے بعد نافذ ہوگا۔ اس کی مدت غیر معینہ ہے، تاہم ابتدائی دس برس کے دوران کوئی فریق معاہدے سے دستبردار نہیں ہو سکے گا۔
پاکستان کی جانب سے معاہدے کی توثیق ہو چکی ہے، جبکہ ترکی میں آئینی تقاضوں کے باعث پارلیمانی منظوری ضروری ہے۔ ترکی کی پارلیمان کے اسپیکر نعمان قرتلمش کی واپسی کے بعد معاہدہ خارجہ امور کمیشن کو بھیجے جانے کی توقع ہے، جہاں اس پر بحث ہو سکتی ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر برہان الدین دوران نے اس اقدام کو تین ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
ایک ترک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ترکی کی متوقع عملی معاونت فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس شیئرنگ اور ہتھیاروں کے نظام تک محدود رہ سکتی ہے اور اب تک اتحاد کے تحت کسی دوسری نوعیت کی تعیناتی نہیں ہوئی۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی معاہدے کو جارحانہ نوعیت کا سمجھنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر حملے کے لیے فوج نہیں بھیجے گا۔
معاہدے میں دفاعی صنعت، انٹیلی جنس تعاون، لاجسٹک مدد اور دہشت گردی کے خلاف تعاون بھی شامل ہے۔ موجودہ مرحلے میں ترکی کی پارلیمانی توثیق ابھی باقی ہے، اس لیے انقرہ کی جانب سے معاہدے کے مکمل قانونی نفاذ کو پارلیمانی عمل سے مشروط سمجھنا ضروری ہے۔ کسی ممکنہ فوجی تعاون کی نوعیت بھی متعلقہ آئینی اجازت اور مخصوص حالات کے مطابق طے ہوگی۔
