تہران: ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں کہا ہے کہ ایران اپنا افزودہ جوہری مواد ملک سے باہر منتقل نہیں کرے گا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اسے ایرانی عوام کا قومی اثاثہ قرار دیا اور کہا کہ یہ مواد داخلی استعمال کے لیے ملک میں ہی رہے گا۔
یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار سفارتی عمل بحال کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جوہری پروگرام، پابندیوں اور آبنائے ہرمز سے متعلق اختلافات مذاکرات کے اہم نکات ہیں۔ ایران کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے اور افزودگی کی سطح عالمی سفارت کاری میں مسلسل توجہ کا مرکز ہیں۔
محسن رضائی نے پاکستانی آرمی چیف سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات کے لیے واشنگٹن کو اعتماد بحال کرنے کے اقدامات اور ایران کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی عاصم منیر سے ملاقات میں پاکستان کی کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کو سراہا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ بات چیت سے پہلے دباؤ، دھمکیوں اور پابندیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ یہ ایران کا مذاکراتی مؤقف ہے اور امریکا کی شرائط اس سے مختلف ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عاصم منیر نے صدر پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ارنا نے رپورٹ کیا کہ ایرانی حکام نے امریکا کے ایک پیغام کا جواب پاکستانی وفد کے حوالے کیا، تاہم دونوں پیغامات کے مکمل مندرجات عام نہیں کیے گئے۔
اسی دورے کے دوران پاکستان-ایران سرحدی تجارت کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ایرانی میڈیا نے عاصم منیر کے حوالے سے کہا کہ سرحدی مسائل حل ہونے کے بعد سرحد دوبارہ کھول دی گئی ہے۔ پاکستان نے چند روز قبل تفتان اور گبد-ریمدان تجارتی راستوں پر عارضی پابندیاں سکیورٹی، اسمگلنگ کی روک تھام اور بارڈر مینجمنٹ کی وجوہات بتاتے ہوئے لگائی تھیں۔ تازہ مذاکرات سے فوری جامع امریکا-ایران معاہدہ طے ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی؛ سفارتی رابطے ابھی جاری ہیں۔

