یورپی خلائی ایجنسی اور جاپان کی خلائی ایجنسی جاکسا کے مشترکہ بیپی کولمبو مشن نے مرکری ٹرانسفر ماڈیول کامیابی سے الگ کرکے عطارد تک پہنچنے کا آخری اور پیچیدہ مرحلہ شروع کردیا ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی نے تین ستمبر 2026 کو تصدیق کی کہ علیحدگی کا سگنل اسپین کے سیبریروس اور ارجنٹینا کے مالارگوئے میں موجود ایسٹریک زمینی اینٹیناؤں نے وصول کیا۔
اس کارروائی کے وقت خلائی جہاز زمین سے 20 کروڑ کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر تھا۔ ٹیلی میٹری کے ابتدائی جائزے میں باقی خلائی مجموعے کے نظام معمول کے مطابق کام کرتے پائے گئے اور مرکری پلانیٹری آربیٹر کے شمسی پینل بجلی پیدا کررہے تھے۔ یہ تصدیق ایک اہم تکنیکی سنگ میل ہے، تاہم مشن ابھی عطارد کے مدار میں داخل نہیں ہوا؛ اگلے کئی ہفتوں میں مزید باریک رفتار اور راستہ درست کرنے والی کارروائیاں درکار ہوں گی۔
مرکری ٹرانسفر ماڈیول نے بین سیاروی سفر کے دوران بیپی کولمبو کو برقی اور کیمیائی دھکیل فراہم کیا۔ آٹھ برس اور اربوں کلومیٹر پر محیط سفر کے بعد اس کا کام مکمل ہونے پر اسے مرکزی خلائی مجموعے سے الگ کیا گیا۔ اب یورپی خلائی ایجنسی کا مرکری پلانیٹری آربیٹر، یعنی ایم پی او، اور جاکسا کا مقناطیسی کرہ آربیٹر ’’میو‘‘ عطارد کے قریب پہنچنے اور اپنے الگ مدار سنبھالنے کے مراحل طے کریں گے۔
یورپی خلائی ایجنسی کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق بیپی کولمبو 21 نومبر 2026 کو عطارد کے گرد مدار میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا۔ اس کے بعد دونوں سائنسی خلائی جہاز نو اور دس دسمبر کے دوران الگ کیے جانے ہیں۔ آلات کی جانچ، مدار کی ترتیب اور کمیشننگ مکمل ہونے کے بعد باضابطہ سائنسی مشاہدات اپریل 2027 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ یہ تمام تاریخیں منصوبہ بندی کا حصہ ہیں اور ہر مرحلے کی کامیابی متعلقہ خلائی کارروائی کے بعد ہی حتمی طور پر ثابت ہوگی۔
عطارد سورج کے انتہائی قریب ہے، اس لیے خلائی جہاز کو شدید حرارت، طاقتور شمسی تابکاری اور پیچیدہ کشش ثقل کے ماحول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رفتار کم کرکے سیارے کے مدار میں داخل ہونا بھی مشکل ہے، کیونکہ سورج کی کشش خلائی جہاز کو مسلسل تیز کرتی ہے۔ اسی وجہ سے مشن نے اپنے طویل سفر میں زمین، زہرہ اور عطارد کے قریب سے متعدد کشش ثقل معاون گزر استعمال کیے اور راستے کو مرحلہ وار تبدیل کیا۔
بیپی کولمبو کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عطارد کے گرد بیک وقت دو الگ سائنسی خلائی جہاز چلانے والا پہلا مشن بننے کے لیے تیار ہے۔ ایم پی او سطح، اندرونی ساخت، کیمیائی ترکیب اور سیارے کے گرد ماحول کا مطالعہ کرے گا، جبکہ میو بالخصوص عطارد کے مقناطیسی میدان، شمسی ہوا اور مقناطیسی کرہ کی پیمائش کرے گا۔ دونوں جہازوں کے ایک ہی وقت میں مختلف مقامات سے حاصل کردہ اعداد سائنس دانوں کو سیارے اور اس کے خلائی ماحول کے تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع دیں گے۔
تازہ علیحدگی کو مکمل مشن کامیابی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ سب سے اہم آئندہ سنگ میل مدار میں داخلہ، دونوں آربیٹرز کی محفوظ جدائی، آلات کی کمیشننگ اور مستقل سائنسی آپریشن ہیں۔ اگر یہ مراحل منصوبے کے مطابق مکمل ہوتے ہیں تو بیپی کولمبو عطارد کی تشکیل، اس کے غیر معمولی بڑے دھاتی مرکز، کمزور مقناطیسی میدان اور سورج کے قریب سیاروی ماحول سے متعلق بنیادی سوالات کے لیے نئی پیمائش فراہم کرے گا۔
فی الحال یورپی خلائی ایجنسی کی تصدیق یہ ہے کہ ٹرانسفر ماڈیول کی علیحدگی کامیاب رہی، زمینی اسٹیشنوں نے سگنل وصول کیا، ٹیلی میٹری معمول کے مطابق ہے اور مشن نومبر میں مدار میں داخلے کی تیاری کی طرف بڑھ گیا ہے۔




