ساؤ پاؤلو: برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا اور ان کے صدارتی حریف سینیٹر فلاویو بولسونارو نے اتوار کے رن آف انتخاب سے قبل آخری ٹیلی ویژن مباحثے میں مہنگائی، روزمرہ اخراجات، فلاحی پالیسی، سکیورٹی اور کرپشن کے معاملات پر ایک دوسرے کے ریکارڈ کو چیلنج کیا۔ دونوں امیدوار سخت مقابلے میں غیر فیصلہ شدہ ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فلاویو بولسونارو، جو سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے ہیں، پہلے مرحلے میں لولا سے آگے رہے تھے، تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں میں دونوں کے درمیان فرق کم ہوا اور مقابلہ تقریباً برابر دکھائی دیا۔ برازیل کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ٹی وی نیٹ ورک گلوبو پر دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والے مباحثے میں دونوں امیدواروں نے اپنی انتخابی تجاویز دہرائیں اور ایک دوسرے پر سیاسی و انتظامی ناکامیوں کے الزامات عائد کیے۔

لولا نے اپنی حکومت کی جانب سے کم از کم اجرت میں مہنگائی سے زیادہ اضافے اور غربت و بھوک میں کمی کے اقدامات کا دفاع کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی سماجی پالیسیوں نے کم آمدن والے شہریوں کو فائدہ پہنچایا۔ بولسونارو نے جواب میں خوراک اور روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں اضافے کو حکومت کی ناکامی قرار دیا اور ٹیکس اصلاحات پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نئے قواعد صارفین پر بوجھ بڑھا سکتے ہیں۔

مباحثے کے دوران ذاتی نوعیت کے جملے بھی سامنے آئے۔ ایک موقع پر بولسونارو نے لولا کے ہاتھ کی جسمانی معذوری سے متعلق تبصرہ کیا، جس پر صدر نے اعتراض کیا اور معافی کا مطالبہ کیا۔ بولسونارو نے اس مخصوص جملے پر معذرت کی، تاہم اس کے بعد سکیورٹی اور قرض کے مسائل پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔

آخری حصے میں دونوں امیدواروں نے Banco Master سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے معاملے کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش کی۔ یہ انتخابی الزامات ہیں اور کسی امیدوار یا ان کے اہل خانہ کے خلاف مباحثے میں لگائے گئے دعوؤں کو عدالتی طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ لولا اور بولسونارو دونوں نے مخالف فریق کے روابط اور ذمہ داری پر سوال اٹھائے۔

برازیل کے انتخابی قانون کے تحت ہفتے سے ریڈیو اور ٹی وی پر باقاعدہ انتخابی اشتہارات کی اجازت ختم ہوجاتی ہے، اگرچہ امیدوار آخری اوقات تک ریلیاں کرسکتے ہیں۔ اس وجہ سے گلوبو کا مباحثہ انتخابی مہم کے آخری بڑے قومی پلیٹ فارمز میں شمار ہوا۔ اتوار کا رن آف یہ طے کرے گا کہ برازیل کی صدارت لولا کے پاس رہتی ہے یا فلاویو بولسونارو اقتدار سنبھالتے ہیں۔