نیویارک: نیویارک سٹی کونسل نے سینٹرل پارک میں گھوڑوں سے چلنے والی سیاحتی گاڑیوں پر پابندی کے حق میں ووٹ دے دیا ہے، جس سے شہر کی ایک پرانی سیاحتی روایت کے خاتمے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ قانون کو نافذ ہونے سے پہلے میئر ظہران ممدانی کے دستخط درکار ہیں، جو ماضی میں پابندی کی حمایت کر چکے ہیں تاہم اس صنعت سے وابستہ کارکنوں کے روزگار کے تحفظ پر بھی تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔

منظور شدہ اقدام کے تحت میئر کے دستخط کی صورت میں گھوڑا گاڑیوں کی سرگرمیاں جون 2028 میں ختم ہوں گی۔ سٹی کونسل کے مطابق عبوری مدت کا مقصد تقریباً 150 فعال گاڑی بانوں کو متبادل روزگار تلاش کرنے کا وقت دینا ہے۔ کارکنوں کی نمائندہ ٹرانسپورٹ ورکرز یونین نے فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے، اس لیے قانون کے نفاذ سے پہلے عدالتی چیلنج کا امکان موجود ہے۔

سینٹرل پارک میں گھوڑا گاڑیوں کے مستقبل پر نیویارک میں تقریباً دو دہائیوں سے سیاسی اور سماجی بحث جاری ہے۔ پابندی کے حامی جانوروں کی فلاح، ٹریفک میں حادثات، گھوڑوں کے گرنے اور بے قابو ہونے کے واقعات کو بنیاد بناتے ہیں۔ دوسری طرف گاڑی بان اور صنعت کے حامی اسے شہر کے ثقافتی ورثے اور روزگار کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔

حالیہ قانون سازی نے اس بحث کو روزگار کی منتقلی اور جانوروں کی بہبود کے عملی انتظامات سے بھی جوڑ دیا ہے۔ سٹی کونسل کے اقدام میں صنعت سے وابستہ ملازمین اور کاروباری افراد کے لیے منتقلی کا منصوبہ تیار کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے، تاہم یونین کا موقف ہے کہ لائسنس یافتہ کاروبار ختم کیے جا رہے ہیں اور متاثرہ کارکنوں کے حقوق کا مناسب تحفظ ضروری ہے۔

فی الحال پابندی فوری طور پر نافذ نہیں ہوئی۔ میئر کے دستخط، ممکنہ عدالتی کارروائی اور عبوری انتظامات کے بعد ہی حتمی عملی صورت واضح ہوگی۔ اگر قانون مقررہ شکل میں نافذ رہا تو جون 2028 کے بعد سینٹرل پارک کی روایتی گھوڑا گاڑی سروس ختم ہو جائے گی۔